اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 295

ناب بدر جلد 4 295 کی۔کہتے ہیں کہ ایک مشرک نے جب یہ دعا سنی کہ اللهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلُهُمْ بَدَدًا کہ یعنی اے اللہ ! ان کی گفتی کو شمار کر رکھ اور ان کو چن چن کر قتل کر تو وہ خوف سے زمین پر لیٹ گیا۔کہتے ہیں کہ ابھی ایک سال نہیں گزرا تھا کہ سوائے اس شخص کے جو زمین پر لیٹ گیا تھا حضرت حبیب کے قتل میں شریک تمام لوگ زندہ نہ رہے، سب ختم ہو گئے۔حضرت معاویہ بن ابو سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ اس موقعے پر موجود تھا۔جب میرے والد نے حضرت حبیب کی دعا سنی تو وہ مجھے زمین پر گرانے لگے۔اور بھی کچھ لوگ ہوں گے بہر حال پہلی روایت ہے، ایک دوسری روایت یہ بھی ہے۔عروہ بیان کرتے ہیں مشرکین میں سے جو اس موقعے پر موجود تھے ان میں ابواهَاب، انحنس بن شريق، عُبيدة بن حکیم اور امیہ بن عتبہ شامل تھے۔خبیب کی طرف سے حضرت جبرئیل کا سلام پہنچانا وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل نبی کریم صلی علیکم کے پاس آئے اور آپ صلی للی کم کو اس واقعے کی خبر دی جس پر آپ صلی للی کم نے اپنے صحابہ کو بتایا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس دن آنحضرت صلی غیر تک بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا، مجلس لگی ہوئی تھی بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا خُبَيْبُ کہ اے حُبَيْب تجھ پر خدا کی سلامتی ہو اور قریش نے انہیں قتل کر دیا ہے۔698 آپ نے یہ بھی فرمایا۔تو اللہ تعالیٰ نے سلام پہنچانے کا انتظام کر دیا۔یہ شرح صحیح بخاری کی ہے اس میں یہ لکھا ہے۔حضرت حبيب موجب شہید کر دیا گیا تو مشرکین نے ان کا چہرہ قبلے کے علاوہ دوسری طرف کر دیا لیکن ان مشرکین نے حضرت حبیب کا چہرہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ دیکھا تو وہ قبلہ رخ تھا۔وہ لوگ بار بار حضرت حبیب کے منہ کو دوسری طرف پھیرتے تھے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے چنانچہ مشرکین نے انہیں اسی حال پر چھوڑ دیا۔699 ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ قریش نے حبیب کو ایک درخت کی شاخ سے لٹکا دیا اور پھر نیزوں کی چو کیں دے دے کر قتل کیا۔اس مجھے میں ایک شخص سعید بن عامر بھی شریک تھا۔یہ شخص بعد میں مسلمان ہو گیا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت تک اس کا یہ حال تھا کہ جب بھی اسے حبیب کا واقعہ یاد آتا تھا تو اس پر غشی طاری ہو جاتی تھی ظلم کرنے والوں میں یہ شامل تھا بعد میں مسلمان ہو 700 حضرت خبیب بن عدی نے شہادت کے وقت آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کو یہ کہا کہ میر اسلام پہنچا دے تو بہر حال یہ وہ لوگ تھے جو بڑے اعلیٰ مقام کے تھے اور اللہ تعالیٰ کا بڑا قرب حاصل کرنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ کا بھی ان سے سلوک کا پتا لگتا ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ اللہ