اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 296
تاب بدر جلد 4 296 تعالیٰ اور تو یہاں کوئی ذریعہ نہیں ہے تو ہی میر اسلام آنحضرت صلی علیہم کو پہنچا دے تو پھر وہ سلام اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی علیم کو پہنچا بھی دیا اور وہاں مجلس میں بیٹھے ہوئے آنحضرت صلی میں ہم نے و علیکم السلام بھی کہا اور اس کا صحابہ سے ذکر بھی کیا کہ ان کی شہادت ہو گئی ہے۔701 ابوسفیان کو قتل کرنے کا منصوبہ رسول اللہ صلی لی ہم نے، حضرت خبیب بن عدی اور ان کے ساتھیوں کی جو شہادت ہوئی تھی ایس کے بعد حضرت عمر و بن امیہ کو یہ حکم دیا کہ سگے جاؤ اور اس ظلم کا جو کرتا دھرتا ہے ابوسفیان اس کو قتل کر دینا، اس کی یہ سزا ہے۔آپ صلی علی کرم نے حضرت جبار بن صخر انصاری کو بھی ساتھ روانہ فرمایا۔یہ دونوں اپنے اونٹ یا کج وادی جو ملے سے آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی یہ گھائی تھی اس میں باندھ کر رات کے وقت کے میں داخل ہوئے۔حضرت جبار نے حضرت عمرو سے کہا کہ کاش ہم طواف کعبہ کر سکیں اور دور کعت نماز ادا کر سکیں یعنی کعبہ میں دور کعت نماز ادا کر سکیں۔حضرت عمر و نے کہا کہ قریش کا یہ طریق ہے کہ رات کو کھانا کھانے کے بعد اپنے صحنوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔کہیں ہم پکڑے نہ جائیں۔حضرت جبار نے کہا ان شاء اللہ ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔حضرت عمرو بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم نے طواف کعبہ کیا اور دور کعت نماز پڑھی۔پھر ہم ابو سفیان کی تلاش میں نکل پڑے کہ اللہ کی قسم ! ہم پیدل چل رہے تھے کہ اہل مکہ میں سے ایک آدمی نے ہمیں دیکھا اور مجھے پہچان لیا اور کہنے لگا کہ عمرو بن امیہ یہ تو وہی ہے ضرور کسی شر کی نیت سے آیا ہو گا۔اس پر میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ بچو، یہاں سے نکلو۔پھر ہم تیزی سے وہاں سے نکلے یہاں تک کہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔وہ لوگ بھی ہماری کھوج میں نکلے۔جب ہم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تو وہ مایوس ہو کر چلے گئے۔پھر ہم نیچے اتر کر پہاڑ کی ایک غار میں گھس گئے اور پتھر اکٹھے کر کے اوپر نیچے رکھ دیے اور وہیں ہم نے رات گزاری۔صبح ہوئی تو ایک قریشی ادھر آنکلا جو اپنے گھوڑے کو لے کر جارہا تھا۔ہم پھر غار میں چھپ گئے۔میں نے کہا اگر اس نے ہمیں دیکھ لیا ہوا تو یہ شور مچائے گا لہذا اس کو پکڑ کر مار دینا ہی بہتر ہے۔حضرت عمر و بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک خنجر تھا جسے میں نے ابوسفیان کے لیے تیار کیا تھا۔میں نے اس خنجر سے اس شخص کے سینے پر وار کیا جس سے وہ اس زور سے چیخا کہ مکے والوں نے اس کی آواز سن لی۔کہتے ہیں میں دوبارہ اپنی جگہ پر آکر چھپ گیا۔جب لوگ اس کے پاس تیزی سے پہنچے تو اپنی آخری سانس لے رہا تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم پر کس نے حملہ کیا؟ اس نے کہا کہ عمرو بن امیہ نے۔پھر موت نے اس پر غلبہ پالیا اور اسی جگہ وہ مر گیا اور انہیں ہماری جگہ کا پتا نہیں بتا سکا۔اس زمانے میں یہی حالت تھی کہ اگر دشمنوں کو پتا لگ جاتا تھا تو پھر ایک دوسرے کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہی ہو تا تھا کہ قتل کر دو اور ان کو یہی شک تھا کہ اس نے کیونکہ ہمیں دیکھ لیا ہے اب یہ جا کے بتا بھی دے گا اور پھر کفار جو ہیں وہ ہمارے پیچھے آئیں گے اور پھر ہمیں بھی قتل کریں گے تو اس سے پہلے دفاع کے طور پر انہوں نے یہ کیا۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارا پتا بتا نہیں سکا۔وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور