اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 215
اصحاب بدر جلد 4 215 اعلی ترین جنت ہے اس میں ہے۔اس پر انہوں نے عرض کیا کہ میں ضرور صبر کروں گی۔ایک دوسری روایت کے مطابق جب آنحضرت صلی اللہ کریم نے فرمایا کہ حارثہ تو فردوس اعلیٰ میں ہے تو اس پر آپ کی والدہ اس حال میں واپس چلی گئیں کہ وہ مسکرا رہی تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں کہ واہ واہ اے حارثہ۔523 اہل بدر کے متعلق اس ارشاد کا مفہوم: جو مرضی کرو تم پر جنت واجب ہو گئی غزوہ بدر کے موقع پر خدا تعالیٰ نے کفار کے سرداروں کو موت کے گھاٹ اتار کر کفار کو رسوا کیا اور غزوہ بدر میں شامل ہونے والے مسلمانوں کو عزت بخشی اور خد اتعالیٰ نے اہل بدر کے متعلق خبر پائی تو فرمایا کہ تم جو مرضی کرو تم پر جنت واجب ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو کہا کہ تم جو مرضی کر و جنت واجب ہو گئی ہے۔یہ مطلب نہیں تھا کہ جو مرضی کرو۔اب گناہ بھی کرو تو جنت واجب ہے۔مطلب یہ کہ اب ان سے ایسی کوئی باتیں نہیں ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف ہوں۔اللہ تعالیٰ خود ان کی رہنمائی فرماتارہے گا۔رسول کریم ملی ای کم نے حضرت حارثہ بن سراقہ کے متعلق فرمایا جو کہ غزوہ بدر کے دن شہید ہو گئے تھے کہ وہ جنت الفردوس میں ہیں۔524 74 نام و نسب و کنیت حضرت حارثہ بن نعمان * حضرت حارثہ بن نعمان۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔حضرت حارثہ بن نعمان انصاری صحابی تھے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا۔حضرت حارثہ کی والدہ کا نام جَعْدَه بِنْتِ عُبَيْد تھا۔حضرت حارثہ بن نُعمان کی اولاد میں عبد اللہ ، عبد الرحمن ، سَودَہ، عُمرہ اور اُمّ ھشام شامل ہیں۔ان کے بچوں کی والدہ کا نام اقر خالد تھا۔آپ کی دیگر اولاد میں اُمّ کلثوم جن کی والدہ بنو عبد الله بن غطفان میں سے تھی اور آمہ اللہ ان کی والدہ جندع میں سے تھیں۔تمام غزوات میں شمولیت آپ غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ شامل تھے۔ان کا شمار بڑے جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے۔ان 80 اصحاب میں سے ایک جو غزوہ حنین میں ثابت قدم رہے ایک دوسری روایت ہے اس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرت حارثہ