اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 214
اصحاب بدر جلد 4 521 214 ہجرت سے پہلے والدہ کے ساتھ یہ مشرف بہ اسلام ہوئے جبکہ آپ کے والد وفات پاچکے تھے۔رسول اللہ صلی للی کرم نے آپ کے اور حضرت سائب بن عثمان بن مظعون کے درمیان عقد مواخات کیا تھا۔2 522 مواخات کا معاہدہ کروایا تھا، بھائی بھائی کا عقد کروایا تھا۔والدہ سے حسن سلوک کے نتیجہ میں جنت الله سة ابونعیم نے بیان کیا کہ حضرت حارثہ بن سراقہ اپنی والدہ سے بہت حسن سلوک سے کام لینے والے تھے یہاں تک کہ رسول کریم صلی علی کرم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں حارثہ کو دیکھا۔بدر کے دن سب سے پہلا سوار شہید حبان بن عرقه نے بدر کے دن آپ کو شہید کیا۔اس نے انہیں اس وقت تیر مارا جبکہ آپ حوض سے پانی پی رہے تھے۔وہ تیر آپ کی گردن پر لگا جس سے آپ شہید ہو گئے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی علی کم پیدل چل رہے تھے کہ ایک انصاری جو ان آپ کے سامنے آیا۔نبی صلی الی یکم نے اس سے فرمایا کہ اے حارثہ تم نے کس حال میں صبح کی۔انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں یقینا اللہ پر حقیقی ایمان رکھتا ہوں۔آپ مسی ای کم نے فرمایا دیکھو کیا کہہ رہے ہو کیونکہ ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔اس نوجوان نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امیر اول دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے۔میں رات بھر جاگتا ہوں اور دن بھر پیا سارہتا ہوں۔یعنی عبادت کرتا ہوں اور روزے رکھتا ہوں اور میں گویا اپنے پروردگار عزوجل کا عرش ظاہری آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور میں گویا اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ گویا باہم ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اور گویا اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس میں شور مچارہے ہیں۔آپ صلی علیہم نے فرمایا تم اسی پر قائم رہو۔تم ایک ایسے بندے ہو جس کے دل میں اللہ نے ایمان کو روشن کر دیا ہے۔پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی علیکم میرے لئے شہادت کی دعا فرمائیے۔چنانچہ رسول اللہ صلی ال کلم نے ان کے لئے دعا کی اور بدر کے روز جب گھڑ سواروں کو بلایا گیا تو آپ سب سے پہلے نکلے او سے پہلے سوار تھے جو شہید ہوئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلے انصاری تھے جو غزوہ بدر میں شہید ہوئے۔جنگ بدر کے ایک شہید کی والدہ اور جنت الفردوس الله حضرت حارثہ کی شہادت کی خبر جب ان کی والدہ کو ملی تو ان کی والدہ حضرت ربیع رسول کریم ملی تعلیم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کو تو معلوم ہے کہ مجھے حارثہ سے کتنا پیار تھا۔بہت خدمت کیا کرتے تھے۔اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو میں صبر کرلوں گی اور اگر ایسا نہیں تو پھر خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ میں کیا کروں گی۔رسول کریم ملی ایم نے فرمایا اے اتم حارثہ جنت ایک نہیں بلکہ کئی جنتیں ہیں اور حارثہ تو فردوس اعلیٰ میں ہے۔جو