اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 216

ناب بدر جلد 4 216 نعْمَان آنحضور صلی یم کے پاس سے گزرے۔آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے تھے۔ایک اور روایت پہلے تھی اور روایت مختصر سی یوں تھی کہ آپ گزرے تو آپ نے سلام کیا اور جبرئیل نے وعلیکم السلام کہا لیکن جو تفصیلی روایت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن نعمان آنحضور صلی لی ایم کے پاس سے گزرے۔آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے تھے اور آپ ان سے آہستہ آہستہ کچھ باتیں کر رہے تھے۔حارثہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔جبرئیل نے کہا کہ انہوں نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ تو رسول اللہ صلی علیم نے بعد میں حارثہ سے دریافت فرمایا کہ جب تم گزر رہے تھے تو تم نے سلام کیوں نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کے پاس ایک شخص کو دیکھا تھا۔آپ ان سے آہستہ آہستہ کچھ باتیں کر رہے تھے۔میں نے ناپسند کیا کہ میں آپ کی بات کو قطع کروں یعنی سلام کر کے پھر آپ کی توجہ پھیروں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے پوچھا کہ کیا تم نے اس شخص کو دیکھ لیا تھا جو میرے پاس بیٹھا تھا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔تو آپ نے فرمایا کہ وہ جبرئیل تھے اور وہ کہتے تھے کہ اگر یہ شخص سلام کر تا تو میں اس شخص کو جواب دیتا۔پھر اس کے بعد جبرئیل نے کہا کہ یہ اسی لوگوں میں سے ہیں۔رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا کہ میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ اس کے کیا معنی ہیں ؟ جس پر جبرئیل نے کہا کہ یہ ان اسی آدمیوں میں سے ہیں جو غزوہ حنین میں آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے۔ان کا رزق اور ان کی اولاد کار زق جنت میں اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔پس آپ صلی علیکم نے حارثہ سے یہ سب کچھ بیان کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی کم ان کا بڑا عزت اور احترام کرتے تھے اور ان کے بارے میں یہ بھی روایت میں ہے ، حضرت عائشہ نے کہا ہے کہ اپنی والدہ کے ساتھ بہترین سلوک کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی یی کم نے فرمایا کہ اس طرح کی نیکی تم سب کو کرنی چاہیے۔مسکین کی مدد کرنا بری موت سے بچاتا ہے حضرت حارثہ بن نعمان آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔نظر خراب ہو گئی۔بند ہو گئی تھی۔آپ نے ایک رسی اپنی نماز کی جگہ سے اپنے کمرے کے دروازے تک باندھی تھی اور اپنے پاس ایک ٹوکرنی رکھا کرتے تھے جس میں کھجوریں ہوتی تھیں۔جب کوئی مسکین آپ کے پاس آتا، کوئی سوالی آتا اور سلام کرتا یا ملنے والا آتا یا سمجھتے کہ یہ غریب آدمی ہے تو اس رسی کو پکڑ کر اپنی نماز کی جگہ سے دروازے تک آتے اور ان کو کھجوریں دیتے۔آپ کے گھر والے کہتے تھے کہ ہم آپ کی طرف سے یہ خدمت کر دیا کریں، ہم دے دیتے ہیں۔آپ کی نظر ٹھیک نہیں۔کیوں تکلیف کرتے ہیں ؟ مگر آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا ہے کہ مسکین کی مدد کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔اپنے مکانات رسول کریم صلی ا سلم کی خدمت میں پیش کرنا روایت میں ہے کہ حضرت حارثہ بن نعمان کے مکانات مدینہ میں رسول اللہ صلی ال کمی کے مکانات کے قریب تھے، کافی مکان تھے ، جائیداد تھی اور حسب ضرورت حضرت حارثہ اپنے مکان آنحضرت صلی کم کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے۔5 525