اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 76
ناب بدر جلد 4 وفات 76 حضرت ابو طلحہ 34 ہجری میں مدینے میں فوت ہوئے اور حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔اس وقت آپ کی عمر ستر سال تھی جبکہ اہل بصرہ کے نزدیک آپ کی وفات ایک سمندری سفر کے دوران ہوئی اور ایک جزیرے میں آپ کو دفن کیا گیا۔194 شوق جہاد میں نفلی روزہ نہ رکھنا اور بی میلی لیلی کی وفات کے بعد پھر کبھی بے روزہ نہ رہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نبی صلی علیم کے زمانے میں جہاد کی وجہ سے نفلی روزہ نہیں رکھا کرتے تھے تا کہ طاقت کم نہ ہو جائے اور حضرت انس مزید فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی للی کم کی وفات ہوئی تو میں نے سوائے عید الفطر یا عید الاضحی کے دن کے کبھی ان کو بے روزہ نہیں دیکھا۔اس کے بعد پھر باقاعدگی سے روزے رکھنے لگ گئے۔195 مہمان نوازی جس پر خدا بھی ہنس پڑا حضرت ابو طلحہ کی مہمان نوازی کا ایک واقعہ یوں ملتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی ال نیم کے پاس آیا۔آپ نے اپنی ازواج کی طرف کسی کو بھیجا۔انہوں نے جواب دیا ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے۔رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا اس مہمان کو کون اپنے ساتھ رکھے گا یا فرمایا اسے کون مہمان ٹھہرائے گا؟ انصار میں سے ایک شخص بولا میں۔چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہار سول اللہ صلی علیم کے مہمان کی نہایت اچھی خاطر تواضع کرو۔وہ بولی ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں مگر اتنا ہی کھانا ہے جو میرے بچوں کے لیے مشکل سے کافی ہو۔اس نے کہا اپنے اس کھانے کو تیار کر لو اور چراغ بھی جلاؤ اور اپنے بچوں کو جب وہ شام کا کھانا مانگیں سلا دینا۔چنانچہ اس نے اپنا کھانا تیار کیا اور چراغ کو جلایا۔پھر اپنے بچوں کو سلا دیا۔اس کے بعد وہ اٹھی جیسے چراغ درست کرتے ہیں تو اس نے اس کو بجھا دیا۔وہ دونوں اس مہمان پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویاوہ بھی کھا رہے ہیں مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی علیکم کے پاس گیا۔آپ نے فرمایا آج رات اللہ ہنس پڑا یا فرمایا تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا اور اللہ نے یہ وحی نازل کی کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر: 10) اور وہ خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے باوجود اس کے کہ انہیں خود سنگی در پیش تھی۔پس جو کوئی بھی نفس کی خساست سے بچایا جائے تو یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔نبی اکرم علیا روم کے بالوں کا تبرک لینے والے پہلے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی ایم نے ایک مرتبہ جب بال اتروائے تو حضرت 196