اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 75
تاب بدر جلد 4 75 اسے کیا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے ان کو آزاد کر دیا تھا اور ان سے شادی کر لی اور ان کی آزادی ہی ان کا مہر تھا۔آخر جب آپ ابھی راستے میں ہی تھے تو حضرت ام سلیم نے حضرت صفیہ کو آپ کی خاطر آراستہ کیا اور پھر وہاں شادی ہوئی۔وہاں آپ کے پاس بھیج دیا اور پھر اس کے بعد کہتے ہیں اگلے دن آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ جس کے پاس کوئی چیز ہو وہ اسے لے آئے اور آپ نے چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا۔کوئی شخص کھجوریں لانے لگا، کوئی تھی۔عبد العزیز نے کہا کہ میراخیال ہے کہ انہوں نے ستو کا بھی ذکر کیا تھا۔کہتے تھے پھر انہوں نے ان سب کو آپس میں ملا کر گوندھ دیا اور یہی رسول اللہ صلی الی ظلم کے ویسے کی دعوت تھی۔190 ایک دوسری روایت میں اس طرح بھی آتا ہے کہ قلعہ کی فتح کے بعد حضرت صفیہ وحید کے۔میں آئیں۔صحابہ کرام نے ، بہت سارے صحابی، ایک صحابی نہیں کافی لوگوں نے رسول اللہ صلی علیم کے پاس آکر ان کی تعریف و توصیف کرنی شروع کی اور یہ بھی کہا کہ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے حضرت صفیہ کے لیے یہ زیادہ مناسب ہے کہ آپ اپنے لیے انہیں منتخب فرما لیں۔آپ ان سے شادی کریں۔چنانچہ رسول صلی تعلیم نے حضرت دحیہ کے پاس پیغام بھیجا اور آپ صلی اللہ ہم نے سات غلاموں کے عوض حضرت صفیہ کو خرید کر انہیں ام سلیم کے حوالے کیا تا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ رکھیں۔پھر جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ آپ نے پھر ان سے شادی کر لی۔191 جنگ حنین میں ہیں کافروں کو قتل کرنے والے حصہ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے اس دن یعنی حسنین کے دن فرمایا کہ شخص کسی کافر کو قتل کرے گا تو اس کا فر کا مال و اسباب اسی شخص کو ملے گا۔اس دن حضرت ابوطلحہ نے ہیں کافروں کو قتل کیا اور ان کا سامان بھی لیا۔ام سلیم کی بہادری اور حضرت ابو طلحہ نے حضرت اُم سُلیم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک خنجر ہے۔انہوں نے پوچھا اے ام سلیم ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر کوئی کافر میرے قریب آئے تو میں اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں۔حضرت ابو طلحہ نے رسول اللہ صلی علیکم کو یہ بات بتائی۔یہ سنن ابو داؤد کی روایت ہے۔192 جہیر الصوت حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الی ایم نے فرمایا کہ لشکر میں تنہا ابوطلحہ کی آواز ایک جماعت پر بھاری ہوتی ہے۔بعض دوسری روایات میں ایک جماعت کی بجائے مِأَةً رَجُل یعنی ایک سو آدمیوں اور ألف رجل یعنی ایک ہزار آدمی کا بھی ذکر ملتا ہے کہ ان کی اتنی بلند آواز تھی۔193