اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 77
ابو بدر جلد 4 77 تھے جنہوں نے آپ کے بالوں میں سے کچھ بال لیے۔7 197 نبی اکرم صلی ایم کی ایک بابرکت دعوت۔چند روٹیاں اسی افراد کے لئے کافی حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ نے حضرت ام سلیم سے کہا۔میں نے رسول اللہ صلی یی کم کی آواز کمزور سنی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بھوک ہے۔کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کی چیز ہے ؟ حضرت اُمِ سلیم نے کہا ہاں۔یہ کہہ کر جو کی کچھ روٹیاں نکال لائیں۔پھر انہوں نے اپنی ایک اوڑھنی نکالی۔انہوں نے روٹیوں کو اس کے ایک کنارے میں لپیٹ دیا اور وہ میرے ہاتھ میں دے دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ میرے بدن پر لپیٹ دیا۔پھر انہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کی طرف مجھے بھیجا۔حضرت انس کہتے تھے کہ میں وہ لے کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی علی یکم کو مسجد میں پایا۔آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔میں پاس کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی علیکم نے مجھے فرمایا کیا ابوطلحہ نے تجھے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا کہ کھانا دے کر بھیجا ہے ؟ میں نے کہا جی۔رسول اللہ صلی ال یکم نے ان لوگوں سے کہا جو آپ کے پاس تھے کہ چلو اٹھو۔بجائے وہ کھانا لینے کے آپ نے ان کو بھی ساتھ لیا۔وہ کھانا لے کر ہی آپ چل پڑے اور میں آپ کے آگے ہی چل پڑا اور حضرت ابوطلحہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ کی تو ادھر ہی آ رہے ہیں۔حضرت ابو طلحہ کہنے لگے کہ اُمِ سلیم ! رسول اللہ صلى الالم لوگوں کو لے آئے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو اُن کو کھلائیں۔چند روٹیاں تھیں وہ تو بھیج دی تھیں۔وہی واپس آرہی ہیں۔وہ بولیں اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔حضرت ابو طلحہ گئے اور جاکر رسول اللہ صلی علیم سے ملے۔پھر آپ جلدی جلدی گھر سے گئے۔حضرت انس پہلے پہنچ گئے تھے۔رسول اللہ صلی ایم آئے۔حضرت ابو طلحہ آپ کے ساتھ تھے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ای سلیم جو تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔وہ روٹیاں لے آئیں تو رسول اللہ صلی الی یکم نے ان کے متعلق فرمایا توڑو ان کو۔وہ توڑی گئیں۔حضرت اُمِ سلیم نے گھی کی ایک کپی نچوڑی اور اس کو بطور سالن ان کے سامنے پیش کیا۔پھر رسول اللہ صلی علی یم نے ان روٹیوں پر دعا کی جو دعا اللہ نے چاہی کہ کریں۔پھر آپ نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور پھر باہر چلے گئے۔پھر آپ نے فرما یا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔پھر آپ نے فرما یا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور انہوں نے اتنا کھایا کہ ان کے پیٹ بھر گئے۔وہ باہر چلے گئے۔پھر آپ نے فرمایا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھانا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔غرض ان سب لوگوں نے کھایا اور پیٹ بھر کر کھایا اور وہ لوگ ستر یا اسی آدمی تھے۔آنحضرت صلی للی نام کی دعا کی برکات کا بھی یہاں ذکر ملتا ہے۔یہی وہ روایت ہے۔198