اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 282
تاب بدر جلد 4 282 تھے کہ انہیں کس قدر رعب اور دبدبہ حاصل تھا۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو حضرت عمرؓ کے سامنے ایک ایک کر کے یہ تمام واقعات آگئے اور آپؐ پر رقت طاری ہو گئی۔اس وقت آپ غلبہ رقت کی وجہ سے بول بھی نہ سکے صرف آپ نے ہاتھ اٹھایا اور شمال کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ شمال میں یعنی شام میں بعض اسلامی جنگیں ہو رہی ہیں۔اگر تم ان جنگوں میں شامل ہو جاؤ تو ممکن ہے اس کا کفارہ ہو جائے۔چنانچہ وہ وہاں سے اٹھے اور جلد ہی ان جنگوں میں شامل ہونے کے لیے چل پڑے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ رئیس زادے جتنے تھے ان میں سے ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا۔سب اسی جگہ شہید ہو گئے اور اس طرح انہوں نے اپنے خاندانوں کے نام پر سے دارغ ذلت کو مٹا دیا۔664 نتیجہ یہی ہے کہ قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔جنہوں نے شروع میں قربانیاں کیں ان کو عزت ملی۔بعد میں اگر آئے اور اس ذلت کے داغ کو مٹانا ہے تو پھر بھی قربانیوں سے ہی مٹایا جاسکتا ہے۔ہجرت مدینہ جب حضرت خباب اور حضرت مقداد بن عمرو نے مدینہ ہجرت کی تو یہ دونوں حضرت کلثوم بن الہدم کے ہاں ٹھہرے اور حضرت کلثوم کی وفات تک انہی کے گھر ٹھہرے رہے۔حضرت کلثوم کی وفات آنحضرت صلی ال نیم کے بدر کی طرف نکلنے سے کچھ عرصے پہلے ہوئی تھی۔پھر وہ حضرت سعد بن عبادہ کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ پانچ ہجری میں بنو قریظہ کو فتح کیا گیا۔665 مواخات رسول اللہ صلی علیکم نے حضرت خباب اور حضرت خراش بن حیمہ کے آزاد کردہ غلام حضرت تمیم کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ایک دوسرے قول کے مطابق آپ نے حضرت خباب کی مواخات حضرت جبر بن عَتِيك کے ساتھ قائم فرمائی۔علامہ ابن عبدالبر کے نزدیک پہلی روایت 666 زیادہ صحیح ہے۔تمام غزوات میں شمولیت حضرت خباب غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی الم کے ساتھ شریک رہے۔667 خوف اور تقویٰ کا معیار ابو خالد بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خباب آئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ کے دوست آپ کے پاس اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ آپ ان سے کچھ بیان کریں یا انہیں کچھ حکم دیں۔حضرت خباب نے کہا میں انہیں کس بات کا حکم