اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 281

تاب بدر جلد 4 281 رؤساء تھے کہتے ذرا پیچھے ہٹ جاؤ ان کو آگے بیٹھنے دو حتی کہ وہ نوجوان رؤساء جو آپ سے، حضرت عمرؓ سے ملنے آئے تھے ہٹتے ہٹتے دروازے تک پہنچ گئے۔اس زمانے میں کوئی بڑے بڑے ہال تو ہوتے نہیں تھے ، ایک چھوٹا سا کمرہ ہو گا اور چونکہ وہ سب اس میں سما نہیں سکتے تھے اس لیے پیچھے ہٹتے ہٹتے ان رؤساء کو جوتیوں میں بیٹھنا پڑا۔جب مکہ کے وہ رؤساء جوتیوں میں جاپہنچے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ایک کے بعد ایک مسلمان غلام آیا اور اس کو آگے بٹھانے کے لیے ان لوگوں کو یارؤساء کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا تو ان کے دل کو سخت چوٹ لگی۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بھی اس وقت کچھ ایسے سامان پیدا کر دیے کہ یکے بعد دیگرے کئی ایسے مسلمان آگئے جو کسی زمانے میں کفار کے غلام رہ چکے تھے۔اگر ایک بار ہی وہ رؤساء پیچھے ہٹتے تو ان کو احساس بھی نہ ہوتا مگر چونکہ بار بار ان کو پیچھے ہٹنا پڑا اس لیے وہ اس بات کو برداشت نہ کر سکے اور اٹھ کر باہر چلے گئے۔باہر نکل کر وہ ایک دوسرے سے شکایت کرنے لگے کہ دیکھو آج ہماری کیسی ذلت ورسوائی ہوئی ہے۔ایک ایک غلام کے آنے پر ہم کو پیچھے ہٹایا گیا ہے یہاں تک کہ ہم جو تیوں میں جا پہنچے۔اس پر ان میں سے ایک نوجوان بولا اس میں کس کا قصور ہے ؟ عمر کا ہے یا ہمارے باپ دادا کا ہے ؟ اگر تم سوچو تو معلوم ہو گا کہ اس میں حضرت عمر فیا تو کوئی قصور نہیں۔یہ ہمارے باپ دادا کا قصور تھا جس کی آج ہمیں سزا ملی کیونکہ خدا نے جب اپنار سول مبعوث فرمایا تو ہمارے باپ دادا نے مخالفت کی مگر ان غلاموں نے اس کو قبول کیا اور ہر قسم کی تکالیف کو خوشی سے برداشت کیا۔اس لیے آج اگر ہمیں مجلس میں ذلیل ہونا پڑا ہے تو اس میں عمر کا کوئی قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے۔اس کی یہ بات سن کر دوسرے کہنے لگے کہ ہم نے یہ تو مان لیا کہ یہ ہمارے باپ دادا کے قصور کا نتیجہ ہے مگر کیا اس ذلت کے داغ کو دور کرنے کا کوئی ذریعہ تبھی ہے یا کوئی نہیں ہے ؟ اس پر سب نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کوئی بات نہیں آتی چلو حضرت عمر سے ہی پوچھ لیں کہ اس کا کیا علاج ہے۔چنانچہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے اس کو آپ بھی خوب جانتے ہیں اور ہم بھی خوب جانتے ہیں۔حضرت عمرؓ فرمانے لگے کہ معاف کرنا میں مجبور تھا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو رسول کریم صلی ا م کی مجلس میں معزز تھے۔شاید تمہارے غلام ہوں گے لیکن آنحضرت صلی کم کی مجلس میں یہ لوگ معزز تھے۔اس لیے میرا بھی فرض تھا کہ میں ان کی عزت کرتا۔انہوں نے کہا ہم جانتے ہیں یہ ہمارے ہی قصور کا نتیجہ ہے لیکن آیا اس عار کو مٹانے کا بھی کوئی ذریعہ ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ہم لوگ تو اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔آج کل اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ وہ لوگ جو مکہ کے رؤساء تھے انہیں مکہ میں کس قدر رسوخ حاصل تھا لیکن حضرت عمران کے خاندانی حالات کو بخوبی جانتے تھے۔آپ مکے میں پیدا ہوئے تھے یعنی حضرت عمرؓ کے میں پیدا ہوئے تھے اور مکہ میں بڑے ہوئے تھے اس لیے حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ ان نوجوانوں کے باپ دادا کس قدر عزت رکھتے تھے۔آپ جانتے تھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہیں کر سکتا تھا اور آپ جانتے