اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 283

اصحاب بدر جلد 4 283 دوں ! ایسانہ ہو کہ میں انہیں کسی ایسی بات کا حکم دوں جو میں خود نہیں کرتا۔ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کا یہ معیار تھا۔نبی اکرم صلی کام کی خوف اور رغبت کی ایک لمبی نماز 668 عبد اللہ بن حباب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی اور اس کو بہت لمبا کیا۔لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ نے ایسی نماز پڑھائی ہے کہ اس جیسی پہلے کبھی نہیں پڑھائی۔آپ نے فرمایا ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز ہے۔میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے دو عطا کی ہیں اور ایک کو روکے رکھا ہے۔میں نے اللہ سے مانگا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے جو اللہ نے عطا فرما دی۔میں نے اللہ سے یہ مانگا کہ میری امت پر کوئی دشمن ان کے اغیار میں سے مسلط نہ کیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرما دی۔بحیثیت امت آج بھی امت قائم ہے اور اگر کوئی مسلط کرتے ہیں تو یہ خود حکومتیں اپنے اوپر مسلط کرتی ہیں۔بحیثیت امت اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی علیم کی امت قائم ہے۔اور پھر فرمایا اور میں نے اللہ سے مانگا کہ میری امت با ہم ایک دوسرے سے نہ لڑے۔یہ اللہ نے مجھے عطا نہیں کی۔اور نتیجہ آج یہ ہے کہ فرقہ بازیاں، کفر کے فتوے یہ سب کچھ چل رہا ہے۔669 شدید اور طویل بیماری طارق سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی للی نیلم کے اصحاب کی ایک جماعت نے حضرت خباب کی عیادت کی۔ان لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ خوش ہو جاؤ کہ تم اپنے بھائیوں کے پاس حوضِ کوثر پر جاتے ہو۔حضرت خباب نے کہا کہ تم نے میرے سامنے ان بھائیوں کا ذکر کیا ہے جو گزر گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اجر وں میں سے کچھ نہ پایا اور ہم ان کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ ہمیں دنیا سے وہ کچھ حاصل ہو گیا جس کے متعلق ہم ڈرتے ہیں کہ شاید یہ ہمارے گذشتہ کیے گئے اعمال کا ثواب ہے جو دنیا ہمیں مل گئی۔یہیں دنیا میں ثواب مل گیا۔حضرت خباب بہت شدید اور طویل مرض میں مبتلا ر۔ار ہے۔670 بعد میں نعمتوں کا حصول اور اپنے گزرے ہوئے بھائیوں کی یاد حَارِثه بن مُضَرب سے مروی ہے کہ میں حضرت خباب " کے پاس ان کی عیادت کے لیے آیا۔وہ سات جگہ سے علاج کی خاطر داغ دیے گئے تھے۔میں نے انہیں کہتے سنا کہ اگر میں نے رسول الہ علی ایم کو یہ فرماتے نہ سنا ہو تا کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ موت کی تمنا کرے تو میں اس کی تمنا کر تا یعنی اتنی تکلیف میں تھے۔ان کا کفن لایا گیا جو قباطی کپڑے کا تھا۔باریک کپڑا جو مصر میں تیار ہو تا تھا تو وہ رونے لگے۔پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیکم کے چچا حضرت حمزہ کو ایک چادر کا کفن دیا گیا جو ان