اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 182

182 ب بدر جلد 4 نہیں۔لوگوں کے دلوں میں بھی آپ صلی علیہ کم سے ایک عشق پیدا ہو گیا تھا جس کی ان لوگوں کو جن کو فراست تھی، جن کو اس محبت کا ادراک نہیں تھا، جن کو وفا اور محبت کے اسرار ورموز کا پتہ نہیں تھا ان کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ کس طرح ہو رہا ہے۔رسول کریم صلی علیہ کی مکہ میں پیدا ہوئے پھر عرب قوم میں پیدا ہوئے اور عربوں سے بھی قریش کے قبیلہ میں پیدا ہوئے جو دوسری عرب قوموں کو بھی حقیر اور ذلیل سمجھتا تھا۔سب سے اچھا قبیلہ آپ کا تھا۔آپ کو حبشیوں سے کیا جوڑ تھا۔اگر آپ صلی ٹیم سے کسی قوم یا قبیلے کو محبت ہونی چاہئے تھی تو بو باشم کو ہونی چاہئے تھی۔آپ سے کسی کو محبت ہونی چاہئے تھی تو قریش کو ہونی چاہئے تھی یا پھر عرب کے لوگوں کو ہونی چاہئے تھی کہ وہ آپ کے ہم قوم تھے اس لیے ان لوگوں کو بھی آپ سے محبت ہونی چاہئے تھی۔غیر قوموں کے دلوں میں جن کی حکومتوں کو آپ کے لشکروں نے پامال کر دیا تھا جن کی قومی سرداری کو اسلامی سلطنت نے تباہ کر کے رکھ دیا تھا محبت ہو ہی کیسے سکتی تھی۔غیر قوموں سے جنگیں ہوئیں، ان کو شکست ہوئی اور ان کی حکومتیں ختم ہو گئیں لیکن اس کے باوجود ان میں آنحضرت صلی للی نیم کے لیے ایک محبت پیدا ہو گئی۔وہ کس طرح پیدا ہو سکتی تھی ؟ انہیں تو آپ سے دشمنی ہونی چاہئے تھی۔لیکن واقعات کیا ہیں۔اس کے لیے ہم پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم کی اس محبت کا جائزہ لیتے ہیں جو اسے اپنے آقا کے ساتھ تھی۔جب آپ پکڑے گئے یعنی حضرت مسیح علیہ السلام جب پکڑے گئے اور آپ کے خاص حواری پطرس کو جسے آپ نے اپنے بعد خلیفہ بھی مقرر کیا تھا، پولیس نے کہا کہ تم اس کے پیچھے پیچھے کیوں آرہے ہو ؟ معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی اس کے ساتھ ہو۔پولیس کو شک گزرا کہ تم اس کے پیچھے آرہے ہو۔تم بھی اس کے ساتھ ہو تو ڈر گیا۔اس نے فوراً کہا کہ میں اس کا مرید نہیں ہوں۔میں تو لعنت بھیجتا ہوں۔نہ صرف انکار کر دیا بلکہ لعنت بھی بھیج دی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ علیہ السلام کے حواری آپ سے محبت ضرور کرتے تھے۔حضرت عیسی کے جو حواری تھے وہ تھے ایسے اور آپ سے محبت بھی کرتے تھے۔بعد میں پطرس بھی روما میں صلیب پر لٹکایا گیا اور اس نے بڑی دلیری کے ساتھ موت کو قبول کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی محبت اور اطاعت سے انکار نہیں کیا لیکن جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو اس وقت اس کا ایمان پختہ نہیں تھا۔اس وقت وہ دو چار تھپڑوں سے ڈر گیا مگر بعد میں اس نے صلیب کو بھی نہایت خوشی سے قبول کیا۔بہر حال یہ ایک نظارہ تھا اس محبت کا جو مسیح علیہ السلام سے آپ کی قوم کو تھی۔اس پر اب آپ کی قوم کے مقابلے میں ہم ان غلاموں کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم ملی اعلام پر ایمان لائے اور پھر وہیں کے ہو کے رہ گئے۔بلال جو حبشی غلام تھے اس سے رسول کریم صلی ال نیم کو جو محبت بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا بلال پر کیا اثر تھا۔بعض لوگوں کو ظاہری طور پر اپنے محبوب سے گہری محبت ہوتی ہے لیکن حقیقتاً ان کی محبت ایک دائرے کے اندر محدود ہوتی ہے۔ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ رسول