اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 181
ب بدر جلد 4 181 457 میں ایسا نہ کر سکا تو کیا ہو گا؟ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا: ایسا ہی کرنا ہو گا ورنہ آگ ٹھکانہ ہو گی۔7 یعنی کسی سائل کو دھتکار نا نہیں اور یہ نہیں کہ صرف جوڑتے رہو اور خرچ نہ کرو۔خرچ کرنا بھی ضروری ہے۔وفات و تدفین حضرت بلال کی وفات حضرت عمر کے دورِ خلافت میں ہیں ہجری میں دمشق شام میں ہوئی۔بعض کے نزدیک آپ کی وفات حلب میں ہوئی۔اس وقت حضرت بلال کی عمر ساٹھ سال سے زائد تھی۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت بلال کی وفات اٹھارہ ہجری میں ہوئی۔آپ کی تدفین دمشق کے قبرستان میں باب الصغیر کے پاس ہوئی۔158 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت بلال کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس حوالے میں سے بعض باتیں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن بات کا جو تسلسل ہے اس کی وجہ سے شاید یہاں دوبارہ شروع کی ایک دو باتیں آجائیں۔حضرت بلال حبشی تھے عربی زبان نہیں جانتے تھے اور عربی بولتے ہوئے وہ بہت سی غلطیاں کر جاتے تھے مثلاً حبشہ کے لوگ شین کو سین کہتے تھے۔چنانچہ بلال جب اذان دیتے ہوئے اَشْهَدُ کو استھد کہتے تو عرب لوگ ہنستے تھے کیونکہ ان کے اندر قومی برتری کا خیال پایا جاتا تھا حالانکہ دوسری زبانوں کے بعض الفاظ خود عرب بھی نہیں ادا کر سکتے۔مثلاً وہ روٹی کو ، عرب جو ہیں روٹی کو روٹی نہیں کہہ سکتے ، روتی کہیں گے۔ت بولیں گےٹ کی بجائے اور چوری کو بجوری کہیں گے چ نہیں بول سکتے ج بولیں گے۔فرمایا کہ جس طرح غیر عرب عربی کے بعض الفاظ ادا نہیں کر سکتے اسی طرح عرب بھی غیر زبانوں کے بعض الفاظ نہیں ادا کر سکتے لیکن ان میں قومی برتری کا جو نشہ ہے تو وہ یہ بات سوچتے نہیں کہ ہم بھی تو دوسری زبانوں کے بعض الفاظ نہیں استعمال کر سکتے۔رسول کریم صلی علیکم نے بلال کے اشهَدُ پر دوسرے لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا تم بلال کی اذان پر ہنستے ہو حالا نکہ جب وہ اذان دیتا ہے تو اللہ تعالی عرش پر خوش ہوتا ہے اور تمہارے اَشْهَدُ سے اس کا اَشهَدُ کہنا خدا تعالیٰ کو زیادہ پیارا لگتا ہے۔بلال حبشی تھے اور حبشی اس زمانے میں غلام بنائے جاتے تھے بلکہ گذشتہ صدیوں میں بھی، قریب کی صدیوں میں بھی غلام بنائے گئے بلکہ آج تک بنائے جارہے ہیں لیکن رسول کریم صلی ام ان لوگوں میں سے نہیں تھے جن کے نزدیک کوئی غیر قوم مقہور و ذلیل ہوتی ہے۔آپ کے نزدیک سب قو میں یکساں طور پر خدا تعالیٰ کی مخلوق تھیں۔آپ کو یونانیوں اور حبشیوں سے بھی ویسا ہی پیار تھا جیسے عربوں سے۔کوئی فرق نہیں تھا۔عرب بھی ویسے تھے ، اسی طرح پیارے تھے۔آپ کو افریقی بھی اسی طرح پیارے تھے جیسے عرب پیارے تھے، جیسے یونانی پیارے تھے۔یہی محبت تھی جس نے ان غیر قوموں کے دلوں میں آپ کا وہ عشق پیدا کر دیا تھا جس کو عرب کے بھی بہت سے لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔آپ کی اسی محبت کی وجہ سے ان