اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 183
اب بدر جلد 4 183 کریم صلی الم نے بلال سے ، جس کے حبشی غلام ہونے کی وجہ سے قریش ہی نہیں بلکہ سارے عرب نفرت کا اظہار کرتے تھے ، جس محبت کا اظہار کیا آیا وہ ایک عام رواداری کی روح کی وجہ سے تھا۔یہ رواداری تھی کہ محبت کرنی ہے، اس کا دل رکھنا ہے یہ اس لیے تھا یا حقیقی محبت کا مظاہرہ تھا۔دکھاوے کی محبت تھی یا حقیقی محبت تھی۔اس کا جائزہ بلال ہی لے سکتے ہیں ہم نہیں لے سکتے۔اگر جائزہ لینا ہے تو پھر حضرت بلال کے پاس جانا پڑے گا کیونکہ وہی صحیح جائزہ لے سکتے ہیں۔اس واقعہ پر تیرہ سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ہم اس کا جائزہ کیا لے سکتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ بلال نے آپ کی محبت کے اظہار کو کیا سمجھا۔آنحضرت صلی علیہ ہم کو بلال سے جو حقیقی محبت تھی انہوں نے اسے کیا سمجھا ؟ یہاں یہ سوال نہیں ہے کہ میں نے کیا سمجھا۔یہاں یہ سوال نہیں ہے کہ ہم سے پہلی صدی کے لوگوں نے کیا سمجھا۔یہاں یہ سوال نہیں کہ اس سے پہلی صدی کے لوگوں نے کیا سمجھا۔یہاں یہ سوال بھی نہیں کہ خود صحابہ نے کیا سمجھا۔ان باتوں کو چھوڑو کہ دوسروں نے کیا سمجھا بلکہ سوال یہ ہے کہ آنحضرت صلی علیم کے زمانے کے لوگوں نے، صحابہ نے بھی کیا سمجھا بلکہ دیکھنا ہم نے یہ ہے کہ بلال نے کیا سمجھا اور اس کو دیکھنے کے لیے ایک چھوٹا سا یہ فقرہ ہے جو آنحضرت صلی علی یم نے فرمایا جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ تم اسهَدُ کہنے پر مہنتے ہو۔آپ نے لوگوں کو کہا حالانکہ اس کی اذان سن کر خدا تعالیٰ بھی عرش پر خوش ہو تا ہے۔وہ تمہارے اَشْهَدُ سے اس کے آسھد کی زیادہ قدر کرتا ہے۔یہ صرف دلجوئی اور دفع الوقتی کے لیے تھا یا گہری محبت کی بنا پر تھا یا وقتی طور پر اس بات کو ٹالنے کے لیے آپ نے کوئی بات کی تھی یا یہ گہری محبت کی بنا پر بات کی تھی۔یہی چھوٹا سا فقرہ جو آپ نے کہا تھا کہ اشہد سے زیادہ اللہ کو اشھد پسند ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس فقرے سے بلال نے کیا سمجھا۔بلال نے اس فقرے سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے دل میں خواہ میں غیر قوم کا ہوں اور ایسی قوم کا ہوں جو انسانیت کے دائرے سے باہر سمجھی جاتی ہے اور غلام بنائی جاتی ہے محبت اور عشق ہے۔بلال نے یہ سمجھا کہ غیر قوم کا ہونے کے باوجود اور ایسی قوم کا ہونے کے باوجود جس کو غلام بنایا جاتا ہے مجھ سے آپ صلی المیہ ہم نے محبت کی اور عشق کیا۔ہم اس واقعہ سے کچھ عرصہ پیچھے جاتے ہیں یہی شخص جو کہتا ہے کہ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی علیم کے بارے میں فرمایا مَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعلمین میری موت بھی اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے ، فوت ہو جاتا ہے۔آپ صلی للی یکم کی وفات ہو گئی۔نئی حکومتیں بن جاتی ہیں۔نئے افراد آجاتے ہیں اور نئے تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں۔زمانہ گزر گیا۔نئی حکومتیں بھی آگئیں۔بہت ساری تبدیلیاں پید اہو گئیں۔بعض صحابہ عرب سے سینکڑوں میل باہر نکل جاتے ہیں، انہی صحابہ میں بلال بھی تھے۔آنحضرت صلی للی کم کی وفات کے بعد یہ سب تبدیلیاں جو آئیں تو وہ شام چلے جاتے ہیں اور دمشق جا پہنچتے ہیں۔ایک دن کچھ لوگ اکٹھے ہوئے۔حضرت بلال دمشق میں تھے۔وہاں لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ نام کے وقت میں بلال اذان دیا کرتا تھا ہم چاہتے ہیں کہ بلال پھر اذان