اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 179

179 ناب بدر جلد 4 ایسی بات کہتے ہو ؟ اور اس کے بعد پھر وہ نبی کریم صلی ا کرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ ہم کو بات بتائی۔اس پر آپ صلی علی کرم نے فرمایا اے ابو بکر شاید تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے۔اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو یقینا تم نے اپنے رب کو ناراض کیا۔اس پر حضرت ابو بکر ان کے پاس آئے اور کہا اے پیارے بھائیو! میں نے تمہیں ناراض کر دیا؟ حضرت ابو بکر تو یہ بات لے کر گئے تھے کہ آنحضرت صلی علی کم اس پر ان کو کچھ روکیں گے ، ٹوکیں گے لیکن الٹا آنحضرت صلی الی تم نے فرمایا کہ تم نے ان لوگوں کو ناراض کر دیا اور حضرت ابو بکر کا بھی دیکھیں کیا مقام تھا فوری طور پر ان غریب لوگوں کے پاس واپس گئے اور انہیں کہا پیارے بھائیو ! میں نے تمہیں ناراض کر دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں نہیں اے بھائی ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔آپ نے ہمیں ناراض نہیں کیا۔48 رسول کریم ملی ان کا اپنا بچا ہو اپانی ایک بشارت کے ساتھ عطا فرمانا حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی علیکم کے پاس تھا جبکہ آپ جعرانہ میں قیام فرما تھے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے۔ایک اعرابی شخص رسول اللہ صلى ال علم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! کیا آپ مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہ فرمائیں گے ؟ رسول اللہ صلی علیم نے اسے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو۔اس پر بدوی کہنے لگا کہ مجھے ابشر یعنی تمہیں خوشخبری ہو آپ بڑی دفعہ کہہ چکے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیکم حضرت ابو موسی اور حضرت بلال کی طرف متوجہ ہوئے جیسے کوئی ناراض ہو۔پھر اس بدوی کی طرف نہیں دیکھا۔ان دونوں کی طرف متوجہ ہو گئے اور فرمایا کہ اس نے بشارت کو رد کر دیا۔میں اس کو خوشخبری دے رہا ہوں۔اس نے خوشخبری کورڈ کیا ہے۔پس تم دونوں یہ بشارت قبول کر لو۔ان دونوں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! ہم نے قبول کیا۔پھر رسول اللہ صلی علیہم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا۔اس پانی سے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا اور اس سے کلی کی۔پھر فرمایا تم دونوں اس میں سے پی لو اور دونوں اپنے چہروں اور سینوں پر انڈیل لو اور خوش ہو جاؤ۔چنانچہ ان دونوں نے وہ پیالہ لیا اور ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صل العالم نے انہیں کرنے کا حکم فرمایا تھا تو پردے کے پیچھے سے حضرت ام سلمہ نے انہیں پکارا کہ جو تم دونوں کے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لیے یعنی حضرت ام سلمہ ، ام المومنین کے لیے بھی بچاؤ تو ان دونوں نے ان کے لیے اس میں سے کچھ بچا دیا۔449 نبی کریم صلی الم کے چودہ نقیب حضرت علی بن ابو طالب روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیم نے فرمایا ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں اور مجھے چودہ یعنی دو گنے نقیب عطا ہوئے ہیں۔ہم نے عرض کیا وہ کون ہیں ؟ حضرت علی نے کہا۔میں ، میرے دونوں بیٹے اور جعفر اور حمزہ اور ابو بکر اور عمرؓ اور مصعب بن عمیر اور بلال اور سلمان اور مقد اڈ اور ابو ذر اور عمار اور عبد اللہ بن مسعودؓ 450