اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 178

اصحاب بدر جلد 4 178 ایک موقعے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے احمدی مستورات سے خطاب فرماتے ہوئے یہ جو آیتِ قرآنی ہے کہ الْمَالُ وَ الْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَالْبقِيتُ الصَّلِحْتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَ خَيْرٌ املاً یہ بیان فرمائی اور اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت بلال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” ایک ہی چیز ہے جو باقی رہنے والی ہے اور وہ ہے و البقيتُ الصلحت وہ کام جو خدا کے لیے کرو گی باقی رہے گا۔“ پھر آپ نے فرمایا کہ ”آج ابو ہریرہ کی اولاد کہاں ہے ، مکان کہاں ہیں ؟ کوئی جائیداد نہیں، اولاد نہیں۔ہم نہیں جانتے اولاد کہاں ہے کہ نہیں ہے۔لیکن ہم جنہوں نے نہ ان کی اولاد د یکھی، نہ مکان دیکھے ، نہ جائید اور یھی ہم جب ان کا نام لیتے ہیں تو کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔“ آپ فرماتے ہیں کہ چند دن ہوئے ایک عرب آیا اس نے کہا کہ میں بلال کی اولاد میں سے ہوں۔اس نے معلوم نہیں سچ کہا یا جھوٹ مگر میرا دل اس وقت چاہتا تھا کہ میں اس سے چمٹ جاؤں کہ یہ اس شخص کی اولاد میں سے ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی علیکم کی مسجد میں اذان دی تھی۔آج بلال کی اولاد کہاں ہے ؟“ ہم نہیں جانتے کوئی اولاد ہے بھی کہ نہیں اور ہے تو کہاں ہے۔”اس کے مکان کہاں ہیں ؟ کوئی جائیدادیں ہمیں نظر نہیں آتیں۔اس کی جائیداد کہاں ہے ؟ مگر وہ جو اس نے محمد رسول اللہ صلی للی نیم کی مسجد میں اذان دی تھی وہ اب تک باقی ہے اور باقی رہے گی۔4446 اور یہ وہ نیکیاں ہیں جو باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔حضرت بلال سے چوالیس احادیث مروی ہیں۔صحیحین میں چار روایات آئی ہیں۔445 جنت تین لوگوں سے ملنے کی مشتاق ہے ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جنت تین لوگوں سے ملنے کی بہت مشتاق ہے۔علی، عمار اور بلال 446 ایک دفعہ حضرت عمررؓ حضرت ابو بکر کے فضائل بیان کر رہے تھے۔آپ نے حضرت ابو بکر کے فضائل بیان کرتے ہوئے حضرت بلال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ بلال جو ہیں ہمارے سردار ہیں۔حضرت ابو بکر کے فضائل بیان کر رہے ہیں اور وہاں حضرت بلال بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ بلال جو ہیں ہمارے سردار ہیں اور حضرت ابو بکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہیں۔447 کیونکہ حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو خرید کر غلامی سے آزاد کروایا تھا۔عائذ بن عمر و سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال کے پاس جو ایک مجمع میں تھے ابوسفیان آئے تو اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن پر اپنی جگہ پر نہ پڑیں۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے کہا کیا تم قریش کے معزز اور ان کے سردار کے بارے میں ایسا کہتے ہو ؟ حضرت ابو بکر نے جب ان کو یہ باتیں کرتے سنا کہ صحیح طرح ہم نے ان سے بدلہ نہیں لیا تو حضرت ابو بکر کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔آپؐ نے فرمایا کہ تم قریش کے سردار کے بارے میں