اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 180

اصحاب بدر جلد 4 موذنوں کا سردار 180 451 حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یہ ہیم نے فرمایا بلال کیا ہی اچھا انسان ہے۔وہ تمام مؤذنوں کا سردار ہے۔اس کی پیروی کرنے والے صرف مؤذن ہی ہوں گے اور قیامت کے دن سب سے لمبی گردنوں والے موذن ہی ہوں گے۔حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی یکم نے فرمایا: بلال کتنا ہی اچھا انسان ہے کہ شہداء اور موذنوں کا سردار ہے اور قیامت والے دن سب سے لمبی گردن والے حضرت بلال ہوں گے یعنی بڑی عزت کا مقام ان کو ملے گا۔452 ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرما یا بلال کو جنت کی اونٹنیوں میں سے ایک اونٹی دی جائے گی اور وہ اس پر سوار ہوں گے۔بلال سے کبھی ناراض نہ ہونا 453 حضرت بلال کی اہلیہ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی علیہ کی میرے پاس آئے اور سلام کیا۔فرمایا کیا بلال یہاں ہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ گھر نہیں آئے۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا: لگتا ہے تم بلال سے ناراض ہو۔میں نے کہا وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور وہ ہر بات پر یہی کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی ایم نے فرمائی ہے۔یہ بات رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمائی ہے۔پس رسول کریم صلی علی کلم نے حضرت بلال کی بیوی کو فرمایا کہ بلال مجھ سے جو بات تم تک پہنچائیں وہ یقینا سچی ہو گی اور بلال تم سے غلط بات نہیں کرے گا۔پس تم بلال پر کبھی ناراض نہ ہوناور نہ اس وقت تک تمہارا کوئی عمل قبول نہ ہو گا جب تک تم نے بلال کو ناراض رکھا۔454 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی سلیم نے فرمایا کہ بلال کی مثال تو شہد کی مکھی جیسی ہے جو میٹھے پھلوں اور کڑوی بوٹیوں سے بھی رس چوستی ہے مگر جب شہد بنتا ہے تو سارے کا سارا شیریں گا بنتا 455 ہو جاتا ہے۔سب میٹھا ہو جاتا ہے۔حضرت بلال کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت بلال جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ اللهُم تَجَاوَزْ عَن سَيِّئَاتِ وَاعْنُدْنِي بِعِلاتي - اے اللہ ! تو میری خطاؤں سے در گذر فرما اور میری کو تاہیوں کے بارے میں مجھے معذور سمجھ۔456 حضرت بلال سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے مجھ سے فرمایا: اے بلال ! غریبی میں مرنا اور امیری میں نہ مرنا۔میں نے عرض کیا کہ وہ کیسے ؟ یہ کس طرح ہو کہ میں غریبی میں مروں اور امیری میں نہ مروں۔اس کی سمجھ نہیں آئی تو رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا: جو رزق تمہیں عطا کیا جائے اسے سنبھال کر نہ رکھنا اور جو چیز تم سے مانگی جائے اس سے منع نہ کرنا۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ! اگر