اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 177

اصحاب بدر جلد 4 177 ایک دوسری روایت میں یوں مذکور ہے کہ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ا ہم نے حضرت بلال سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا: بلال مجھے بتاؤ جو سب سے زیادہ امید والا عمل تم نے اسلام میں کیا ہو کیونکہ میں نے بہشت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی چاپ سنی ہے۔حضرت بلال نے کہا اپنے نزدیک تو میں نے اس سے زیادہ امید والا عمل اور کوئی نہیں کیا کہ جب بھی میں نے رات کو یا دن کو کسی وقت وضو کیا تو میں نے اس وضو کے ساتھ نماز ضرور پڑھی ہے جتنی بھی میرے لیے پڑھنا مقدر تھی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔441 اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت صلی لی نام سے بڑھ کر آپ ہو گئے بلکہ صرف یہ کہ پاکیزگی اور مخفی عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام دیا کہ وہ جنت میں بھی اسی طرح آنحضرت صلی علیم کے ساتھ ہیں جس طرح دنیا میں تھے جیسا کہ گذشتہ ایک روایت میں بھی ذکر ہوا تھا کہ عید کے روز حضرت بلال نیزہ پکڑ کر آنحضرت صلی الی یکم کے آگے چلتے تھے اور پھر قبلہ رخ نیزہ گاڑتے تھے اور آنحضرت صلی لیکن وہاں عید پڑھاتے تھے تو بہر حال ان کا یہ اعزاز ان کی پاکیزگی اور عبادت کی وجہ سے جنت میں بھی اللہ تعالی نے قائم رکھا اور آنحضرت صلی تعلیم نے ان کو اپنے ساتھ ایک نظارے میں دیکھا۔اے کاش! میں بلال کی ماں کے بطن سے پیدا ہوتا ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جب مجھے جنت کی طرف رات کو لے جایا گیا تو میں نے قدموں کی چاپ سنی۔میں نے کہا اے جبرئیل امیہ قدموں کی چاپ کیسی ہے ؟ جبرئیل نے کہا یہ ابو پیدا بلال ہیں۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ اے کاش! میں بلال کی ماں کے بطن سے پید اہو تا۔اے کاش ! بلال کا باپ میر اباپ ہوتا اور میں بلال کی طرح ہوتا۔442 کیا اعلیٰ مقام ہے اس بلال کا جسے ایک وقت میں حقیر سمجھ کر پتھروں پر گھسیٹا جاتا تھا۔حضرت ابو بکر خواہش کر رہے ہیں کہ کاش میں بلال ہو تا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ابتدائی صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ اس طرح تحریر فرمایا ہے کہ ”بلال بن رباح جو امیہ بن خلف کے حبشی غلام تھے۔ہجرت کے بعد مدینہ میں اذان دینے کا کام انہی کے سپر د تھا مگر آنحضرت صلی علیم کے بعد انہوں نے اذان کہنا چھوڑ دیا تھا لیکن جب حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں شام فتح ہوا تو ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے اصرار پر انہوں نے پھر اذان کہی جس پر سب کو آنحضرت علی علیہ یم کا زمانہ یاد آگیا چنانچہ وہ خود اور حضرت عمرؓ اور دوسرے اصحاب جو اس وقت موجود تھے اتنے روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔حضرت عمر کو بلال سے اتنی محبت تھی کہ جب وہ فوت ہوئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا آج مسلمانوں کا سردار گذر گیا۔یہ ایک غریب حبشی غلام کے متعلق بادشاہ وقت کا قول تھا۔“ 443<<