اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 176
تاب بدر جلد 4 176 کرنے آئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا دیکھو برا نہ منانا۔یہ لوگ رسول کریم صلی الم کے صحابہ تھے اور رسول کریم صلی اللہ کم کی مجلس میں ہمیشہ آگے بیٹھا کرتے تھے۔اس لیے میں بھی مجبور تھا کہ انہیں آگے بٹھاتا۔بیشک تمہیں میرے اس فعل سے تکلیف ہوئی ہو گی مگر میں مجبور تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی اس مجبوری کو سمجھتے ہیں۔ہم صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے اور کیا کوئی پانی ایسا ہے جس سے یہ داغ دھویا جاسکے۔حضرت عمر جو اُن نوجوانوں کے باپ دادا کی شان و شوکت اور ان کے رعب اور دبدبے کو دیکھ چکے تھے جب انہوں نے ان نوجوانوں کی یہ بات سنی تو آپ کی آنکھوں میں آنسوڈ بڈبا آئے کہ یہ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے کہاں سے کہاں آگرے ہیں اور آپ پر رفت اس قدر غالب آئی کہ آپ ان کی بات کا جواب تک نہ دے سکے۔صرف ہاتھ اٹھا کر شام کی طرف جہاں ان دنوں قیصر کی فوجوں سے لڑائی ہو رہی تھی اشارہ کر دیا۔مطلب یہ تھا کہ اب ذلت کا یہ داغ اسی طرح دھل سکتا ہے کہ اس لڑائی میں شامل ہو کر اپنی جان دے دو۔چنانچہ وہ اسی وقت باہر نکلے اپنے اونٹوں پر سوار ہوئے اور شام کی طرف روانہ ہو گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا۔اس طرح انہوں نے اپنے خون کے ساتھ اس ذلت کے داغ کو مٹایا جو ان کی پیشانی پر اپنے باپ دادا کے افعال کی وجہ سے لگ گیا تھا۔8 شروع میں وفاد کھانے والے کا مقام اونچا ہے 438 پس ایک تو یہ ہے کہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں تبھی مقام ملتا ہے اور اسلام کی یہ خوبصورت تعلیم ہے کہ جو قربانیاں کرنے والے ہیں، جو شروع سے ہی وفاد کھانے والے ہیں ان کا مقام بہر حال اونچا ہے چاہے وہ حبشی غلام ہو یا کسی نسل کا غلام ہو۔اور یہ وہ مقام ہے جو اسلام نے حق پر رکھا ہے، جو اپنے میرٹ پر رکھا ہے اور ہر ایک کو ملتا ہے۔یہ نہیں کہ کون امیر ہے کون غریب ہے۔قربانیاں کرنے والے ہوں گے، وفا کرنے والے ہوں گے، اپنی جانیں نثار کرنے والے ہوں گے، ہر چیز قربان کرنے والے ہوں گے تو ان کو مقام ملے گا۔439 رسول اللہ صل الم کا فرمانا اے بلال کیا وجہ ہے تم جنت میں مجھ سے آگے رہتے ہو عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ صلی علیم نے حضرت بلال کو بلایا اور پوچھا۔اے بلال! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں مجھ سے آگے رہتے ہو۔جب کل شام میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی چاپ سنی ہے۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ میں جب بھی اذان دیتا ہوں تو دورکعت نفل نماز پڑھتا ہوں اور جب بھی میر اوضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں وضو کر لیتا ہوں اور میں خیال کرتا ہوں کہ اللہ کی طرف سے مجھ پر دور کعت ادا کرنا واجب ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا پھر یہی وجہ ہے۔440