اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 143

143 اصحاب بدر جلد 4 دل میں یہ خیال آیا کہ میں اُن کو زہر دے دوں۔اگر ان کا کاروبار انسانی کاروبار ہو گا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعی میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچالے گا۔رسول کریم صلی ہی ہم نے اس کی یہ بات سن کر اسے معاف فرما دیا اور اس کی سزا جو یقیناً قتل تھی اسے نہ دی۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی علیم کس طرح اپنے مارنے والوں اور اپنے دوستوں کے مارنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے اور در حقیقت اسی وقت آپ سزا دیا کرتے تھے جب کسی شخص کا زندہ رہنا آئندہ بہت سے فتنوں کا موجب ہو سکتا تھا۔360 کیا نبی اکرم منی ایم کی وفات اسی زہر سے ہوئی ؟ بہر حال یہ ایک عام تاثر ہے۔بعض دشمن یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیکم کی وفات اس زہر سے ہوئی تھی اور تاریخ وسیرت کی بعض کتب نے بھی یہ بحث اٹھائی ہے اور بعض سیرت نگار اس وجہ سے آنحضرت صلی للہ علم کو شہادت کا مقام دینے کے لیے ان روایات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ اس زہر کی وجہ سے آپ صلی علیم نے وفات پائی تھی جبکہ حقیقت میں یہ بات درست نہیں ہے۔اس پر ہمارے ریسرچ سیل نے بھی ایک نوٹ مجھے بھیجا تھا۔وہ بھی ایسا ہے کہ میں یہاں سنا دیتا ہوں۔اس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ تاریخ اور سیرت کی کتب ہوں یا حدیث کی، ایک بات مسلم ہے کہ آنحضرت صلی یہ کم کی وفات ہر گز اس زہر کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔جو کوئی ایسا کہتا ہے اول تو وہ ان تمام تر روایات کا علم نہیں رکھتا یا وہ غلطی خوردہ ہے۔واضح رہے کہ زہر دیے جانے کا واقعہ غزوہ خیبر کے موقع پر ہوا جو کہ چھے ہجری کے آخری یاسات ہجری کے آخری یا سات ہجری کے اوائل کا واقعہ ہے۔اور اس کے تقریباً چار سال بعد تک آپ صلی علیہ ہم زندہ رہے۔بھر پور زندگی گزاری۔اسی طرح جس طرح اس سے پہلے جنگوں میں بھی جاتے رہے۔عبادات اور دیگر معمولات میں بھی رتی بھر فرق نہیں آیا۔تقریباً چار سال بعد بخار اور سر درد کی کیفیت طاری ہونا اور اس الله سة کے بعد وفات پا جانا اس کو کوئی عقل مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ زہر کی وجہ سے چار سال بعد اثر ہوا ہے۔اصل میں بخاری اور بعض دوسری کتب احادیث میں ایک حدیث ہے جس کے ترجمے کو درست نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ مفہوم نکالا جاتا ہے کہ گویا اسی زہر کی وجہ سے وفات ہوئی تھی حالا نکہ یہ درست نہیں ہے۔بخاری کی وہ حدیث یہ ہے، اس کا ترجمہ بیان کر دیتا ہوں کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ کم مرض الموت میں یوں فرماتے تھے کہ عائشہ ! اس کھانے کی تکلیف جو میں نے خیبر میں کھایا تھا مجھے ہمیشہ محسوس ہوتی رہی اور اب بھی اس زہر سے میں اپنی رگیں کٹتی ہوئی محسوس کر رہا ہوں۔361 یہ وہ حدیث ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ بعض مسلمان مفسرین بھی اور محدثین بھی یہی کہتے ہیں کہ گویا اسی تکلیف کی وجہ سے آنحضرت صلی یم کی وفات ہوئی تھی۔اور پھر اسی کو سامنے رکھتے