اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 142

بدر جلد 4 142 بیٹھی ہے۔آپ صلی العلیم نے اس سے پوچھا کہ بی بی تمہارا کیا کام ہے ؟ اس نے کہا کہ اے ابو القاسم ! میں آپ کے لیے ایک تحفہ لائی ہوں۔رسول کریم صلی علی یم نے کسی ساتھی صحابی سے فرمایا کہ جو چیز یہ دیتی ہے اس سے لے لو۔اس کے بعد آپ کھانے کے لیے بیٹھے تو کھانے پر وہ بھنا ہوا گوشت بھی رکھا گیا۔رسول کریم صلی العلیم نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور آپ کے ایک صحابی بشیر بن براء بن معرور نے بھی ایک لقمہ المدرسة کھایا۔بہر حال تاریخ کی کتابوں میں حضرت بشر بن براء کا نام بعض جگہ بشیر بن براء بھی لکھا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بشیر بن براء یہاں لکھا ہے مراد بشر بن براء ہی ہیں۔اتنے میں باقی صحابہ نے بھی گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی علیم نے فرمایا مت کھاؤ کیونکہ اس ہاتھ نے مجھے خبر دی ہے کہ گوشت میں زہر ملا ہوا ہے۔یعنی اس کے معنی یہ نہیں کہ آپ کو الہام ہو ا تھا بلکہ یہ عرب کا محاورہ ہے۔معنی یہ ہیں کہ اس گوشت کو چکھ کر مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔پس اس جگہ یہ مراد نہیں ہے۔اس محاورے کے تحت ہی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا آپ کا ہاتھ بولا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا گوشت چکھنے پر مجھے معلوم ہوا ہے۔چنانچہ اگلا فقرہ ان معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ ہی اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک دیوار کے متعلق آتا ہے کہ وہ گرنا چاہتی تھی جس کے محض یہ معنی ہیں کہ اس میں گرنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔پس اس جگہ بھی یہی مراد ہے۔یہ محاورہ بولا گیا ہے۔پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ اس پر بشیر نے کہا یعنی بشر بن بر او نے کہ جس خدا نے آپ کو عزت دی ہے اس کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس لقے میں زہر معلوم ہوا ہے۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کو پھینک دوں لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو شاید آپ کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور آپ کا کھانا خراب نہ ہو جائے۔تسلی مجھے نہیں تھی لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ کچھ ہے اور جب آپ نے وہ لقمہ نگلا تو میں نے بھی آپ کی تنقیع میں نگل لیا۔گو میر اول یہ کہہ رہا تھا کہ چونکہ مجھے شبہ ہے کہ اس میں زہر ہے اس لیے کاش رسول اللہ صلی الی یم یہ لقمہ نہ نکلیں۔اس کے تھوڑی دیر بعد بشیر کی طبیعت خراب ہو گئی اور بعض روایتوں میں تو یہ ہے کہ وہ وہیں خیبر میں فوت ہو گئے اور بعض میں یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصہ بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے۔اس پر رسول کریم صلی للہ ہم نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ کتا مر گیا۔تب رسول اللہ صل اللی ایم نے اس عورت کو بلایا اور فرمایا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے۔اس نے کہا کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ہے۔آپ کے ہاتھ میں اس وقت بکری کا دست تھا۔آپ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملا پا ہے۔اس پر آپ نے اس سے پوچھا کہ اس نا پسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا۔اس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتے دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے۔میرے