اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 144
تاب بدر جلد 4 144 ہوئے یہ بھی تشریح کرتے ہیں کہ آپ صلی علی یکم کو اس وجہ سے شہید بھی قرار دیا جا سکتا ہے یا بعض کے نزدیک دیا جاتا ہے۔جبکہ یہ روایت اس بات کی تائید نہیں کرتی۔اس میں صرف ایک تکلیف کا اظہار ہے جو آنحضرت صلی لی ہم نے اس وقت فرمایا اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بعض اوقات کوئی جسمانی تکلیف یا زخم یا بیماری کبھی کبھی خاص خاص موقعوں پر کسی سبب سے باہر آجاتی ہے۔خیبر کے موقعے پر جو زہر اور گوشت آپ نے کھایا اس کے متعلق روایات کی تفصیل میں جائیں تو یہ بھی ملتا ہے کہ زہر ملا ہوا یہ گوشت آپ نے منہ میں ڈال لیا تھا لیکن نگلا نہیں تھا۔لیکن اگر نگلا بھی تھا تو آپ کی بھر پور زندگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وفات کی وجہ بہر حال یہ نہیں تھی۔ہاں اس زہر کی وجہ سے معدے کو یا انتڑیوں کو جو نقصان پہنچا تھا وہ بیماری میں زیادہ ہو گیا اور یہ قدرتی بات ہے بعض دفعہ اس طرح ہو جاتا ہے اور منہ میں جانے کی وجہ سے آپ کے حلق یا کوے پر زخم آگیا تھا اور کبھی کبھی کھانے کے دوران اس میں تکلیف محسوس فرماتے تھے۔احادیث میں یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ آنحضرت صلی الیکم کو معلوم ہو گیا تھا کہ اس میں زہر ہے اور آپ صلی تعلیم نے اپنے صحابہ کو کھانے سے روک دیا تھا اور زہر ملانے والی عورت کو بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہم نے اس لیے زہر ملایا تھا کہ اگر آپ خدا کی طرف سے سچے رسول ہیں تو آپ بچ جائیں گے ورنہ ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی۔یہودی تو اس کو دیکھنے کے بعد آپ کے بچنے کا اعلان کر رہے ہیں اور اس عورت کا تو یہ تھا کہ اتنا خطرناک زہر تھا پھر بھی آپ بچ گئے تو آپ کے بچ جانے کی وجہ سے بعض روایات میں تو اس عورت کے اسلام قبول کر لینے کا بھی ذکر ملتا ہے۔جو بھی ہو وہ یہودی تو اس زہر سے نہ مرنے کا اقرار کر رہے ہیں اور اس کو معجزہ قرار دے رہے ہیں۔اس لیے یہ کہنا کہ اس زہر کی وجہ سے آپ کی کمی کی وفات ہوئی یہ ہر گز درست نہیں ہے۔362 45 نام و نسب حضرت بشیر بن سعد 363 حضرت بشیر بن سعد۔ان کی کنیت ابو نعمان تھی۔سعد بن ثعلبہ ان کے والد تھے۔حضرت سماك بن سعد کے بھائی تھے۔قبیلہ خزرج سے ان کا تعلق تھا۔ان کی والدہ کا نام انیسہ بنتِ خَلِیفَہ تھا اور آپ کی زوجہ کا نام عمرہ بنتِ رَوَاحَہ تھا۔