اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 75

اصحاب بدر جلد 3 75 حضرت عمر بن خطاب اس کی تفصیل میں ایک جگہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا اس عورت سے ، جو شعر پڑھ رہی تھی اس کے شعر سن کے پوچھا کہ تم نے کوئی برائی کا ارادہ تو نہیں کیا؟ اس عورت نے کہا کہ اللہ کی پناہ۔حضرت عمرؓ نے اس عورت کو فرمایا کہ اپنے آپ پر قابورکھو۔اس کی طرف میں ابھی خط روانہ کر رہا ہوں یعنی تمہارے خاوند کی طرف میں ابھی خط روانہ کر رہا ہوں۔چنانچہ آپ نے اس کی طرف قاصد کو بھجوایا تا کہ اس کو واپس بلایا جائے۔پھر آپ نے مزید تحقیق کی اور پھر جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ چار مہینہ کا زیادہ سے زیادہ عرصہ رکھا کہ اس عرصہ سے زیادہ خاوند باہر نہ رہے یا پھر بیوی بچے ساتھ ہوں۔140 پھر حضرت عمرؓ نے اپنی پشت پر آٹا اور چربی اٹھائی اسلم، حضرت عمر کے وہی آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں حضرت عمررؓ کے ساتھ مدینہ کے بیرونی حصہ میں گیا تو ہمیں ایک خیمہ نظر آیا۔ہم نے اس خیمہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس خیمے میں ایک عورت دردزہ میں مبتلا ہے اور رورہی ہے۔حضرت عمرؓ نے اس سے اس کا حال دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا۔میں ایک مسافر پر دیسی عورت ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اس پر حضرت عمر رو پڑے اور تیزی سے اپنے گھر واپس لوٹے اور اپنی اہلیہ حضرت ام کلثوم بنت علی سے فرمایا کیا تم اجر حاصل کرنا چاہتی ہو جو اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔آپ نے ساری بات ان کو بتائی۔اس پر انہوں نے کہا جی ضرور۔پھر حضرت عمر نے اپنی پشت پر آنا اور چربی اٹھائی اور حضرت ام کلثوم نے زچگی کی ضرورت کا سامان اٹھایا اور وہ دونوں آئے۔حضرت ام کلثوم اس عورت کے پاس گئیں اور حضرت عمرؓ اس عورت کے خاوند کے ساتھ بیٹھ گئے۔وہ خاوند بھی وہاں موجود تھا۔وہ آپ کو نہیں پہچانتا تھا۔آپ اس کے ساتھ گفتگو کرنے لگے۔اس عورت نے لڑکے کو جنم دیا۔حضرت ام کلثوم نے حضرت عمرؓ کو آئے بتایا اور عرض کی کہ اے امیر المومنین ! اپنے ساتھی کو لڑکے کی خوشخبری دے دیں۔یعنی وہ جو اس عورت کا خاوند ہے اسے خوشخبری دے دیں کہ لڑکا پیدا ہوا ہے۔جب اس شخص نے حضرت ام کلثوم کی یہ بات سنی تو اس کو احساس ہوا۔اس کو تو نہیں پتہ تھا کہ کس کے ساتھ بیٹھا ہے، کہ وہ کتنے عظیم شخص کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور وہ حضرت عمرؓ سے معذرت کرنے لگا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کوئی بات نہیں۔پھر آپ نے ان کو خرچ اور ضرورت کا سامان پہنچایا اور واپس تشریف لے آئے۔141۔۔۔۔پھر سب عورتوں کے ہاں خطوط کے لیے کاغذ اور دوا تیں لے کر جاتے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم ! حضرت عمرؓ نے جو کچھ کہا اس کو پورا کر دیا۔سختی کرنے کے مواقع پر سختی میں اور نرمی کے مواقع پر نرمی میں بڑھ گئے اور وہ لوگوں کے بال بچوں کے باپ بن گئے یہاں تک کہ ان عورتوں کے پاس جاتے جن کے شوہر باہر گئے