اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 76

اصحاب بدر جلد 3 76 حضرت عمر بن خطاب ہوئے تھے۔ان کے دروازوں پر پہنچ کر ان کو سلام کرتے پھر کہتے کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے ؟ یا تم کوئی ضرورت کی چیز منگوانا چاہو تو میں وہ چیز تمہیں بازار سے خرید کر لا دوں گا۔مجھے یہ ناپسند ہے کہ خرید و فروخت میں تمہیں دھوکا دیا جائے تو وہ عورتیں آپ کے ساتھ اپنی بچیوں کو یا بچوں کو بھی بھیج دیتی تھیں۔آپ بازار میں اس طرح جاتے کہ آپ کے پیچھے لوگوں کی بچیاں اور بچے اتنے ہوتے کہ ان کا شمار مشکل ہو تا۔پھر آپ ہر ایک کے لیے ان کی ضرورت کی چیزیں خریدتے اور جن عورتوں کا کوئی بچہ نہ ہو تا تو اس کے لیے خود خریداری کرتے۔جب کسی لشکر میں سے کوئی ایچی آتا تو اس سے ان عورتوں کے شوہروں کے خطوط لے کر خود ان کو پہنچاتے اور ان سے فرماتے کہ تمہارے شوہر اللہ کی راہ میں گئے ہوئے ہیں اور تم رسول اللہ صلی علیم کے شہر میں ہو۔اگر تمہارے پاس کوئی ہے جو یہ خط پڑھ سکے تو ٹھیک ہے ورنہ دروازے کے قریب کھڑی ہو جاؤ تا کہ میں تمہیں پڑھ کر سنادوں۔142 پھر فرماتے کہ ہمارا اینچی یہاں سے فلاں فلاں دن جائے گا تم خط لکھ دینا تا کہ ہم تمہارے خطوط بھیج دیں۔پھر سب عورتوں کے ہاں خطوط کے لیے کاغذ اور دوا تیں لے کر جاتے پھر ان میں سے جو خط لکھ دیتی اس کا خط لیتے اور جو نہ لکھ سکتی تو فرماتے کہ یہ کاغذ اور دوات ہے تم دروازے کے قریب آجاؤ اور مجھے لکھواؤ۔اس طرح آپ ایک ایک دروازے پر جاتے اور ان کے شوہروں کو ان کی طرف سے خطوط لکھتے۔پھر ان خطوط کو بھیج دیتے۔2 حضرت علی بیان فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر اونٹ کا پالان کندھے پر رکھے ہوئے ابطخ کی طرف تیزی سے جارہے تھے۔یہ البطاخ بھی مکہ اور منی کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔تو حضرت علی کہتے ہیں۔میں نے کہا اے امیر المومنین ! کہاں جارہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: صدقے کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے۔میں اس کو تلاش کرنے جارہا ہوں۔میں نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ ایسی باتیں آپ کر رہے ہیں کہ آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے ایسی راہیں متعین کر دی ہیں کہ جن پر چلنا آسان نہیں ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے ابو الحسن ! مجھے ملامت نہ کرو۔اس کی قسم ہے جس نے محمد کو نبوت کے ساتھ مبعوث کیا! اگر بکری کا بچہ بھی دریائے فرات کے کنارے ضائع ہو گیا تو قیامت کے دن عمر کا اس پر مواخذہ ہو گا۔143 چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے کی ضرورت نہیں ہے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک مسلمان ایسی حالت میں چلے آرہے تھے کہ انہوں نے گردن نیچی ڈالی ہوئی تھی یعنی ایک مسلمان شخص تھا جو نیچے گردن جھکائے ہوئے چلا آرہا تھا۔کوئی صدمہ پہنچا ہو گا، کوئی تکلیف پہنچی ہو گی اس وجہ سے پریشان ہو گا۔نیچے گردن ڈالی ہوئی تھی۔”حضرت عمرؓ نے اس کی ٹھوڑی پر مکا مارا اور کہا اسلام کی فتوحات کا زمانہ ہے اور تم اپنی گردن جھکائے پھر رہے ہو !! یعنی یہ زمانہ ہے اور اسلام کی فتوحات ہو رہی ہیں۔اگر تمہیں کوئی تھوڑی سی تکلیف