اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 74
محاب بدر جلد 3 74 حضرت عمر بن خطاب تھا اور ماں تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔جب کچھ مدت تک تھپکی دینے کے باوجود بچہ چپ نہ ہوا تو ماں نے بچے کو تھپڑ مار کر کہا۔رؤ عمر کی جان کو۔حضرت عمر حیران ہوئے کہ اس بات سے میر اکیا تعلق ہے؟ حضرت عمرؓ نے اس عورت سے خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت لی اور اندر جا کر اس عورت سے پوچھابی بی! کیا بات ہے؟ چونکہ وہ حضرت عمر کو پہچانتی نہ تھی اس لئے کہنے لگی بات کیا ہے ؟ عمرؓ نے سب کے گزارے مقرر کئے ہیں لیکن اس کو یہ معلوم نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کے لئے بھی غذا کی ضرورت ہے۔اب میرے پاس دودھ پورا نہیں اور میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے تا اس کا وظیفہ مقرر ہو جائے۔حضرت عمر اسی وقت واپس آئے اور آپ نے خزانے سے آٹے کی بوری نکلوائی اور خود اٹھا کر چلنے لگے۔وہ آدمی جو خزانہ پر مقرر تھے وہ آگے بڑھے کہ ہم اٹھا کر لے چلتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے ان سے کہا تم چھوڑ دو میں خود اٹھا کر لے جاؤں گا۔قیامت کے دن جب مجھے کوڑے لگیں گے تو کیا میری جگہ تم جواب دو گے؟ پتہ نہیں کہ اس طرح میرے ذریعہ کتنے بچے مر گئے ہیں۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے یہ حکم دیا کہ دودھ پیتے بچوں کا بھی وظیفہ مقرر کیا جائے۔137 حضرت عمرؓ کا درخت لگانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”حدیث میں عمار بن خُزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا ہے؟ ( وہ آگے مزید درخت نہیں لگا رہا تھا، اپنے باغ کو بڑھا نہیں رہا تھا یا جو خراب پودے تھے ان کی جگہ نئے پودے نہیں لگا رہا تھا تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔کل مر جاؤں گا۔( مجھے کیا فائدہ اس کا ؟ ) پس اس کو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگائے۔( یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔لازمی طور پر تم نے یہ درخت لگانے ہیں)۔کہتے ہیں ”پھر میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے۔1380 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ واقعہ سستی اور کسل مندی سے بچنے کے ضمن میں بھی بیان فرمایا ہے اور یہ بھی کہ پچھلی نسل کے لگائے ہوئے پودوں کے پھل تم کھا رہے ہو تو اگلی نسل کے لیے بھی پورے چھوڑ کے جاؤ۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو دورہ کیا کرتے تھے۔ایک 66 دفعہ رات کو شہر میں پھر رہے تھے تو آپ نے ایک عورت کو سنا کہ وہ عشقیہ شعر پڑھ رہی ہے۔آپ نے دن کو تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اس کا خاوند مدت سے باہر رہتا ہے۔فوج میں باہر گیا ہوا ہے ”آپ نے پھر یہ حکم دے دیا اس کے بعد آپ نے یہ حکم دیا کہ کوئی سپایی چار ماہ سے زیادہ باہر نہ رہے۔اگر کوئی سپاہی زیادہ مدت تک باہر رہناچاہتا ہو تو اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ رکھے ورنہ چار ماہ کے بعد اسے فوج کا افسر مجبور اواپس گھر بھیج دے۔139