اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 481
481 حضرت علی حاب بدر جلد 3 شخص لیے مدد کو آئے۔پس آپ تیزی سے اس آواز کی طرف دوڑے حتی کہ آپ کے جوتوں کی آواز بھی آ رہی تھی اور آپ کہتے چلے جاتے تھے کہ مدد آگئی۔مدد آ گئی۔جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے سے لپٹا ہوا ہے۔جب اس نے آپ کو دیکھا تو عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! میں نے اس شخص کے پاس ایک کپڑا نو در ہم کو بچا تھا اور شرط یہ تھی کہ کوئی روپیہ “ یعنی جو درہم ہے وہ ”مشکوک یا کٹا ہوا نہ ہو اور اس نے (خریدنے والے نے ) اس کو منظور کر لیا تھا لیکن آج جو میں اس کو بعض ناقص روپے دینے کے لئے آیا اس نے جب مجھے روپے دیے تو ان درہم میں سے بعض ناقص تھے۔جب میں ان کو ناقص روپے دینے کے لیے آیا تو اس نے بدلانے سے انکار کر دیا۔جب میں پیچھے پڑا تو اس نے مجھے تھپڑ مارا۔آپ نے مشتری سے کہا کہ اس کو روپے بدل دے۔“ جو خریدار تھا اس کو یہ کہا اس کو روپے بدل کے دو۔رقم بدل کے دو ” پھر دوسرے شخص سے کہا کہ تھپڑ مارنے کا ثبوت پیش کر۔جب اس نے ثبوت دے دیا تو آپ نے مارنے والے کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ اس سے بدلہ لے۔اس نے کہا اے امیر المومنین! میں نے اس کو معاف کر دیا ہے۔آپ نے فرمایا تو نے تو اس کو معاف کر دیا مگر میں چاہتا ہوں کہ تیرے حق میں احتیاط سے کام لوں۔معلوم ہوتا ہے وہ سادہ تھا اور اپنے نفع نقصان کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔حضرت مصلح موعود لکھ رہے ہیں۔اور پھر اس شخص کو جس نے تھپڑ مارا تھا اس شخص کو 9 کوڑے مارے۔اور فرمایا اس شخص نے تو تجھے معاف کر دیا تھا مگر یہ سزا حکومت کی طرف سے ہے۔“ پھر ایک اور واقعہ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ” ایک عمدہ مثال حضرت علی کے عمل سے ملتی ہے۔آپ نے ایک دفعہ دیکھا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پیٹا ہے۔حضرت علی نے اس کو روکا اور مضروب کو کہا کہ اب تم اس کو مارو۔مگر مضروب نے کہا کہ میں اس کو معاف کرتا ہوں۔حضرت علیؓ نے سمجھ لیا کہ ڈر کے مارے اس نے اسے مارنے سے انکار کیا ہے کیونکہ وہ مارنے والا بڑا جبار شخص تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا تم نے اپنا ذاتی حق معاف کر دیا ہے مگر میں اب قومی حق کو استعمال کرتا ہوں اور اسے اسی قدر پٹوا دیا جس قدر کہ اس نے دوسرے کمزور شخص کو پیٹا تھا۔“ حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ان کا ایک مقدمہ ایک اسلامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو مجسٹریٹ نے حضرت علی کا کچھ لحاظ کیا۔آپ نے فرمایا یہ پہلی بے انصافی ہے جو تم نے کی ہے کہ میر الحاظ کر رہے ہو ” میں اور یہ اس وقت برابر ہیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت علی کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کیا آپ قوم کے سب سے فصیح و بلیغ واعظ اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو لفظوں میں جان ڈال دیتے ہیں ؟ اپنی بلاغت اور حسن بیان کے زور سے اور سامعین کے لئے اپنی پرکشش تاثیر سے لوگوں کو 961" 962" 963"