اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 480

حاب بدر جلد 3 480 حضرت علی کی طرح رہتے تھے۔ہم سوال کرتے تو آپ جواب دیتے اور کسی واقعہ کی بابت دریافت کرتے تو اس کے بارے میں بتاتے۔خدا کی قسم ! باوجودیکہ ہمارا ان سے اور ان کا ہم سے محبت اور قرب کا بڑا تعلق تھا مگر ہم ان کے رعب کی وجہ سے ان سے کم کم بات کرتے تھے۔وہ دیندار لوگوں کی تعظیم کرتے اور مساکین کو اپنے قرب میں جگہ دیتے تھے۔کوئی طاقتور شخص یہ طمع نہیں رکھ سکتا تھا کہ وہ اپنی جھوٹی بات آپ سے منوانے گا اور کوئی کمزور شخص آپ کے عدل و انصاف سے مایوس نہ ہو تا تھا۔خدا کی قسم! بعض موقعوں پر میں نے دیکھا کہ جب رات ڈھل جاتی اور بتارہے ماند پڑ جاتے تو آپ اپنی داڑھی پکڑ کر ایسے تڑپتے جیسے سانپ کا ڈسا ہوا شخص تڑپتا ہے اور سخت غمگین شخص کی طرح روتے اور کہتے اسے دنیا ! جاتو میرے سوا کسی اور کو جاکر دھوکا دے۔کیا تو میرے منہ لگتی ہے اور مجھے بن سنور کر دکھاتی ہے۔تو جو چاہتی ہے وہ کبھی نہیں ہو گا، کبھی نہیں ہو گا۔میں تو تمہیں تین طلاقیں دے چکا جن کے بعد کوئی رجوع نہیں ہوتا کیونکہ تیری عمر تھوڑی ہے اور تو بے وقعت ہے۔یہ تمثیلی زبان میں دنیا سے مخاطب ہیں کیونکہ تیری عمر تھوڑی ہے اور تو بے وقعت ہے۔آہ !ازادِ راہ کم ہے اور سفر لمبا اور راستہ وحشت ناک ہے۔آپ کی صفات کے بارے میں یہ ساری باتیں بتائیں تو یہ سن کر امیر معاویہ رو پڑے اور کہا۔اللہ ! ابوالحسن پر رحم کرے۔خدا کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔اے ضرار ! علی کی وفات پر تمہیں کیسا غم ہو !؟ خیر ار نے کہا اس عورت کے غم جیسا جس کے بچے کو اس کی گود میں ہی ذبح کر دیا جائے۔960 حضرت علی کے قضائی فیصلے بہت مشہور ہیں۔ان میں سے بعض بیان کرتا ہوں جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ جو طبری نے لکھا ہے، بتاتا ہے کہ ابتدائے اسلام سے اس احتیاط پر عمل ہو تا چلا آیا ہے۔وہ واقعہ اس طرح ہے کہ عدل بن عثمان بیان کرتے ہیں۔“ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی ساری عربی عبارت بھی لکھی ہے میں اس وقت وہ عربی کی عبارت چھوڑ دیتا ہوں۔ان شاء اللہ خطبہ چھپے گا تو اس وقت یہ لکھی جائے گی۔(رَأَيْتُ عَلِيًّا عَمَّ خَارِجًا مِنْ هَمْدَانَ فَرَأَى فِئَتَيْنِ تَقْتُلَانِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ مَضى فَسَمِعَ صَوْتَايَا غَوْنَا بِاللَّهِ فَخَرَجَ يَحُضُّ نَحْوَهُ حَتَّى سَمِعْتُ خَفْقَ نَعْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ آتَاكَ الْغَوْثُ فَإِذَا رَجُلٌ يُلَازِمُ رَجُلًا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِعْتُ مِنْ هَذَا ثَوْبَا بِتِسْعَةِ دَرَاهِمَ وَشَرَطْتُ عَلَيْهِ أَنْ لَّا يُعْطِينِى مَغْبُورًا وَلَا مَقْطُوْعًا وَكَانَ شَرْطُهُمْ يَوْمَئِذٍ فَأَتَيْتُهُ بِهْذِهِ اللَّدَاهِمِ لِيُبَتِلَهَا لِي فَأَبَى فَلَزِمَتُهُ فَلَطَمَنِى فَقَالَ ابْدِلْهُ فَقَالَ بَينَتُكَ عَلَى اللَّطْمَةِ فَأَتَاهُ بِالْبَيِّنَةِ فَأَقْعَدَهُ ثُمَّ قَالَ دُونَكَ فَاقْتَصَّ فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَحْتَاطَهُ فِي حَقِّكَ ثُمَ ضَرَبَ الرَّجُلَ يَسْحَ دُرّاتٍ وَقَالَ هَذَا حَقُ السُّلْطَانِ) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”میں نے دیکھا کہ حضرت علییؓ ہمدان سے باہر مقیم تھے کہ اسی اثناء میں آپ نے دو گروہوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا اور آپ نے ان میں صلح کرا دی لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ آپ کو کسی شخص کی آواز آئی کہ کوئی خدا کے