اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 482
باب بدر جلد 3 482 حضرت علی اپنے گرد جمع کر لینا آپ کے لئے محض ایک گھنٹے بلکہ اس سے بھی کم تر وقت کا کام تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: 96466 میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو۔وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔96566 پھر آپ فرماتے ہیں کہ خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فاسق قرار دیتے ہیں اور بہت سے امور خلاف تقویٰ ان کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ حلیہ ایمان سے بھی ان کو عاری سمجھتے ہیں۔“ یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں تو ایمان ہی نہیں تھا۔یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان کے زیور سے عاری تھے۔” تو اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ جبکہ صدیق کے لئے تقویٰ اور امانت اور دیانت شرط ہے تو یہ تمام بزرگ اور اعلیٰ طبقہ کے انسان جو رسول اور نبی اور ولی ہیں کیوں خدا تعالیٰ نے ان کے حالات کو عوام کی نظر میں مشتبہ کر دیا۔کیوں یہ لوگ جو تھے ان کو صحیح طرح سمجھ نہیں آئی کیوں ان کی جو حالت تھی، ان کا جو سارا اسوہ تھا مشتبہ تھا؟ اور وہ اُن کے افعال اور اقوال کو سمجھنے سے اس قدر قاصر رہے کہ ان کو دائرہ تقویٰ اور امانت اور دیانت سے خارج سمجھا اور ایسا خیال کر لیا کہ گویا وہ لوگ ظلم کرنے والے اور مالِ حرام کھانے والے اور خون ناحق کرنے والے اور دروغ گو اور عہد شکن اور نفس پرست اور جرائم پیشہ تھے حالانکہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ نہ رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ نبی ہونے کا اور نہ اپنے تئیں ولی اور امام اور خلیفتہ المسلمین کہلاتے ہیں لیکن بایں ہمہ کوئی اعتراض ان کے چال چلن اور زندگی پر نہیں ہوتا تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیا کہ تا اپنے خاص مقبولوں اور محبوبوں کو بد بخت شتاب کاروں سے جن کی عادت بد گمانی ہے مخفی رکھے جیسا کہ خود وجود اس کا اس قسم کی بد ظنی کرنے والوں سے مخفی ہے۔9666 یعنی یہ کہنے والے خود بد بخت ہیں اور بدظنی کرنے والے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے خود اپنے آپ کو مخفی رکھا ہوا ہے اور لوگ اللہ تعالیٰ پر بد ظنی کرتے ہیں اسی طرح اس کے جو مقرب ہیں ان پر بھی خود یہ بد بخت لوگ اعتراض میں جلدی کرنے والے ہیں یہی لوگ اصل میں ایسے ہیں جن میں تقویٰ نہیں ہے اور یہ متقیوں پر الزام لگاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ حضرت علی متلاشیان (حق) کی امید گاہ اور سنیوں کا بے مثال نمونہ اور بندگان (خدا) کے لئے حجۃ اللہ تھے۔نیز اپنے زمانے کے لوگوں میں بہترین انسان اور ملکوں کو روشن کرنے کے لئے اللہ کے نور تھے لیکن آپ کی خلافت کا دور امن و امان کا زمانہ نہ تھا بلکہ فتنوں اور ظلم و تعدی کی تند ہواؤں کا زمانہ تھا۔عوام الناس آپ کی اور ابن ابی سفیان کی خلافت کے بارے میں اختلاف