اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 422

اصحاب بدر جلد 3 422 حضرت علی ور نہ مجبوری ہوتی ہے کیونکہ اس وقت الارم کی گھڑیاں نہ تھیں۔اس بات کو سن کر آنحضرت صلی للی نم کو حیرت ہوئی ہی تھی کیونکہ آپ صلی للی نیم کے دل میں جو ایمان تھا وہ کبھی آپ کو ایسا غافل نہ ہونے دیتا تھا کہ تہجد کا وقت گزر جائے اور آپ کو خبر نہ ہو۔اس لیے آپ نے دوسری طرف منہ کر کے صرف یہ کہہ دیا کہ انسان بات مانتا نہیں جھگڑتا ہے۔یعنی تم کو آئندہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے تھی کہ وقت ضائع نہ ہو نہ کہ اس طرح ٹالنا چاہیے تھا۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔میں نے پھر کبھی تہجد میں ناغہ نہیں کیا۔825 غزوہ احد 826 غزوہ احد کے موقعے پر جب ابن قمئہ نے حضرت مصعب بن عمیر کو شہید کیا تو اس نے یہ گمان کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی علی قوم کو شہید کر دیا ہے۔چنانچہ وہ قریش کی طرف کو ٹا اور کہنے لگا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دیا ہے۔جب حضرت مصعب شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی علیم نے جھنڈا حضرت علی کے سپرد کیا۔چنانچہ حضرت علی اور باقی مسلمانوں نے لڑائی کی۔ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ احد کے موقعے پر مشرکین کے علمبر دار طلحہ بن ابو طلحہ نے حضرت علی کو للکارا۔انہوں نے آگے بڑھ کر ایسا وار کیا کہ وہ زمین پر ڈھیر ہو کر تڑپنے لگا۔حضرت علی نے یکے بعد دیگرے کفار کے علمبر داروں کو تہ تیغ کیا۔رسول اللہ صلی الیم نے کفار کی ایک جماعت دیکھ کر حضرت علی ہو ان پر حملہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔حضرت علی نے عمرو بن عبد اللہ مجمحی کو قتل کر کے انہیں منتشر کر دیا۔پھر آپ نے کفار کے دوسرے دستہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت علی نے شَيْبَة بن مالك کو ہلاک کیا تو حضرت جبرئیل نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یقینا یہ ہمدردی کے لائق ہے ، یعنی حضرت علی کے بارے میں ، تو رسول اللہ صلی الم نے فرمایا ہاں علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔تو جبرئیل نے کہا کہ میں آپ دونوں میں سے ہوں۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد میں جب رسول اللہ صلی مینیم کے پاس سے لوگ ہٹ گئے تو میں نے شہداء کی لاشوں میں دیکھنا شروع کیا تو ان میں رسول اللہ صلی امید کم کو نہ پایا۔تب میں نے کہا خدا کی قسم !رسول اللہ صلی علیہ کم نہ بھاگنے والے تھے اور نہ ہی میں نے آپ کو شہداء میں پایا ہے لیکن اللہ ہم سے ناراض ہوا اور اس نے اپنے نبی کو اٹھا لیا ہے پس اب میرے لیے بھلائی یہی ہے کہ میں لڑوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں۔828 الله سة 827 پھر میں نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور کفار پر حملہ کیا۔وہ ادھر اُدھر منتشر ہو گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی العلم ان کے درمیان ہیں۔8 یہ عشق و وفا کی وہ داستان ہے جو بچپن کے عہد سے شروع ہوئی اور ہر موقعے پر اپنا جلوہ دکھاتی رہی۔غزوہ احد میں آنحضرت صلی علی یم کو جو زخم لگے اس حوالے سے ایک روایت ہے کہ حضرت سہل بن