اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 423

باب بدر جلد 3 423 حضرت علی بعد سے رسول اللہ صلی علیم کے زخم کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا مجھ سے پوچھتے ہو تو اللہ کی قسم ! میں خوب جانتا ہوں کہ کون رسول اللہ صلی علیکم کا زخم دھو رہا تھا۔یعنی یہ نظارہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہے، اور کون پانی ڈال رہا تھا اور کیا دوالگائی گئی تھی۔حضرت سہل نے کہا کہ رسول اللہ صلی للی نیم کی بیٹی حضرت فاطمہ زخم دھو رہی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں سے پانی ڈال رہے تھے۔جب حضرت فاطمہ نے دیکھا کہ پانی خون کو اور نکال رہا ہے تو انہوں نے بوریہ کا ایک ٹکڑ الیا اور اس کو جلایا اور ان کے ساتھ چپکا دیا۔اس سے خون رک گیا اور اس دن آپ کا سامنے والا دانت بھی ٹوٹ گیا تھا اور آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ کا خود آپ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔829 830 حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ غزوہ احد میں حضرت علی کو سولہ زخم لگے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں تو یہ مضمون بیان فرماتے ہوئے آپ نے یہ بیان فرمایا کہ حضرت علی نے احد سے واپس آکر حضرت فاطمہ کو اپنی تلوار دی اور کہا اس کو دھو دو۔آج اس تلوار نے بڑا کام کیا ہے۔رسول کریم صلی علیکم حضرت علی کی یہ بات سن رہے تھے۔آپ نے فرمایا: علیا تمہاری ہی تلوار نے کام نہیں کیا اور بھی بہت سے تمہارے بھائی ہیں جن کی تلواروں نے جو ہر دکھائے ہیں۔آپ نے چھ سات صحابہ کے نام لیتے ہوئے فرمایا ان کی تلواریں تمہاری تلوار سے کم تو نہ تھیں۔اور پھر انہی مصیبتوں میں سے گزرتے ہوئے ان لوگوں کو آخر فتح پاپی ہوئی۔غزوہ خندق شوال پانچ ہجری میں ہوئی ہے۔اس موقعے پر کفار کے لشکر نے جب مدینہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو ان کے رؤساء نے اس امر پہ اتفاق کیا کہ مل کر حملہ کیا جائے۔وہ خندق میں کوئی ایسی تنگ جگہ تلاش کرنے لگے جہاں سے وہ اپنے گھڑ سوار نبی صلی یم اور آپ کے اصحاب تک پہنچا دیں مگر انہیں کوئی 831" جگہ نہ ملی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسی تدبیر ہے جس کو عرب میں آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ان سے کہا گیا کہ آنحضرت صلی علیم کے ہمراہ ایک فارسی شخص ہے جس نے آپ کو اس بات کا مشورہ دیا ہے۔انہوں نے کہا یہ اس کی تدبیر ہے یعنی کفار نے کہا۔پھر وہ لوگ ایسے تنگ مقام پر پہنچے جس سے مسلمان غافل تھے تو عکرمہ بن ابو جہل ، نوفل بن عبد اللہ اور ضرار بن خطاب اور ٹھیرہ بن ابو وهب اور عمر و بن عبد وُڈ نے اس جگہ سے خندق کو پار کیا۔عمرو بن عبدود مقابلے کے لیے بلاتے ہوئے یہ شعر پڑھنے لگا کہ :۔وَلَقَد بَحْتُ مِن النداء لِجَمْعِهِمْ هَلْ مِنْ مُبَارِزُ یعنی ان کی جماعت کو آواز دیتے دیتے خود میری آواز بیٹھ گئی ہے کہ ہے کوئی جو مقابلے کے لیے نکلے۔اس کے جواب میں حضرت علی نے یہ اشعار کہے۔لَا تَعْجَلَن فَقَدْ آتَاك مُجِيبُ صَوْتِكَ غَيْرُ عَاجِزُ