اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 421

حاب بدر جلد 3 421 حضرت علی لوگوں کی بھی اصلاح کریں اور انہی لوگوں کی نسبت مثل مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔یعنی جس طرح چراغ اپنے آس پاس تمام اشیاء کو روشن کر دیتا ہے لیکن خود اس کے نیچے اندھیرا ہو تا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی دوسروں کو تو نصیحت کرتے پھرتے ہیں مگر اپنے گھر کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری روشنی سے ہمارے اپنے گھر کے لوگ کیا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مگر آنحضرت صلیالی نمک کو اس بات کا خیال معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عزیز بھی اس نور سے منور ہوں جس سے وہ دنیا کو روشن کرنا چاہتے تھے اور اس کا آپ تعہد بھی کرتے تھے اور ان کے امتحان و تجربہ میں لگے رہتے تھے اور تربیت اعزاء ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہے جو اگر آپ میں نہ ہو تا تو آپ کے اخلاق میں ایک قیمتی چیز کی کمی رہ جاتی۔دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ میلی لی یم کو اس تعلیم پر کامل یقین تھا جو آپ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اور ایک منٹ کے لیے بھی آپ اس پر شک نہیں کرتے تھے اور جیسا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ دنیا کو اُلو بنانے کے لیے اور اپنی حکومت جمانے کے لیے آپ نے یہ سب کار خانہ بنایا تھاور نہ آپ کو کوئی وحی نہیں آتی تھی۔یہ بات نہ تھی بلکہ آپ کو اپنے رسول اور خدا کے مامور ہونے پر ایسا ملح قلب عطا تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی کیونکہ ممکن ہے کہ لوگوں میں آپ بناوٹ سے کام لے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتے ہوں لیکن یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ رات کے وقت ایک شخص خاص طور پر اپنی بیٹی اور داماد کے پاس جائے اور ان سے دریافت کرے کہ کیا وہ اس عبادت کو بھی بجالاتے ہیں جو اس نے فرض نہیں کی بلکہ اس کا ادا کر نا مومنوں کے اپنے حالات پر چھوڑ دیا ہے اور جو آدھی رات کے وقت اٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔اس وقت آپ کا جانا اور اپنی بیٹی اور داماد کو ترغیب دینا کہ وہ تہجد بھی ادا کیا کریں اس کامل یقین پر دلالت کرتا ہے جو آپ کو اس تعلیم پر تھا جس پر آپ لوگوں کو چلانا چاہتے تھے۔ورنہ ایک مفتری انسان جو جانتا ہو کہ ایک تعلیم پر چلنا ایک اہے، اپنی اولاد کو ایسے پوشیدہ وقت میں اس تعلیم پر عمل کرنے کی نصیحت نہیں کر سکتا یعنی تعلیم پر چلنا بے شک ایک ہے لیکن وہ نصیحت پوشیدہ وقت میں تو نہیں کر سکتا۔یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک آدمی کے دل میں یقین ہو کہ اس تعلیم پر چلے بغیر کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔یعنی کہ تعلیم پر چلنا یا نہ چلنا یہ ایک جیسا ہے لیکن نصیحت کرنا، رات کے وقت، پوشیدہ وقت میں نصیحت کرنا یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب یقین ہو کہ جو تعلیم ہے اس پر چلے بغیر انسان اس کے دین کے یا اس تعلیم کے جو اعلیٰ کمال ہیں ان تک نہیں پہنچ سکتا۔تیسری بات وہی ہے جس کے ثابت کرنے کے لیے میں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی للہ ہر ایک بات کے سمجھانے کے لیے تحمل سے کام لیا کرتے تھے اور بجائے لڑنے کے محبت اور پیار سے کسی کو اس کی غلطی پر آگاہ فرماتے تھے۔چنانچہ اس موقع پر جب حضرت علی نے آپ کے سوال کو اس طرح رڈ کرنا چاہا کہ جب ہم سو جائیں تو ہمارا کیا اختیار ہے کہ ہم جاگیں کیونکہ سویا ہوا انسان اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا۔جب وہ سو گیا تو اب اسے کیا خبر ہے کہ فلاں وقت آگیا ہے اب میں فلاں فلاں کام کر لوں۔اللہ تعالیٰ آنکھ کھول دے تو نماز ادا کر لیتے ہیں