اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 394
محاب بدر جلد 3 394 حضرت عثمان بن عفان کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔پھر حضرت ابو بکر بھی میرے لیے ویسے ہی مطاع رہے۔حضرت عمر بھی ویسے ہی مطاع رہے، ان کی بھی میں نے اطاعت کی۔پھر مجھے خلیفہ بنایا گیا تو کیا میر ابھی وہی حق نہیں جو ان کا ہے، جو پہلے دو خلفاء کا ہے۔میں نے کہا کیوں نہیں۔تو انہوں نے فرما یا پھر کیا با تیں ہیں جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں اور یہ جو ولید کے معاملے سے متعلق تم نے ذکر کیا ہے تو ہم ان شاء اللہ اس کو واجبی سزا دیں گے یعنی جو سزا اس جرم کے لیے ہے جو جرم اس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس نے کیا تو اس کی سزا دیں گے۔پھر اس کے بعد انہوں نے حضرت علی کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ اس کو درے لگائیں تو انہوں نے اس کو اسی درے لگائے۔760 حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اس کی شرح میں بیان کرتے ہیں۔یہ بخاری کی روایت ہے کہ ”ولید بن عقبہ کے خلاف تعزیر عائد کرنے کا جو ذکر ہے اس کا تعلق شراب پینے کے الزام سے ہے۔شہادت سے ثابت ہونے پر کہ وہ زمانہ جاہلیت والی شراب ہی تھی نہ کہ منقہ یا کھجور کا شربت۔حضرت عثمان نے قرابت کا لحاظ نہیں فرمایا بلکہ قرابت کی وجہ سے اسے دو گنا سزا دی۔بجائے چالیس کے اتی کوڑے لگوائے اور یہ تعداد حضرت عمرؓ کے تعامل سے ثابت تھی۔1 761" پھر ایک روایت میں آتا ہے عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ عمران نے جو کہ حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام تھے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برتن منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار پانی ڈال کر دھوئے۔پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ناک صاف کیا۔پھر اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین تین بار دھوئے۔پھر کہا رسول اللہ صلی علیکم فرماتے تھے کہ جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر اس طرح دور کعتیں پڑھیں کہ ان میں اپنے نفس سے باتیں نہ کیں تو جو گناہ بھی اس سے پہلے ہو چکے ہیں ان سب سے اس کی مغفرت کی جائے گی۔762 جمعہ کے دن دوسری اذان کا جو اضافہ ہوا ہے یہ حضرت عثمان کے زمانے میں ہو ا یعنی پہلی اذان جو ہوتی ہے۔اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔زہری نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ جمعہ کے دن پہلی اذان نبی صلی اللہ یکم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اس وقت ہوا کرتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوا اور لوگ بہت ہو گئے تو انہوں نے زَورَاء میں تیسری اذان بڑھا دی۔ابو عبد اللہ نے کہا کہ زوراء مدینہ کے بازار میں ایک مقام ہے۔763 فقہ احمدیہ میں بھی اس کے متعلق حدیث کے حوالے سے لکھا ہوا ہے کہ آنحضرت صلی علیہ کم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں جمعہ کے دن منبر کے پاس (جو یقینا مسجد کے اندر رکھا ہوا تھا) ایک ہی اذان دی جاتی تھی۔بعد میں حضرت عثمان کے زمانہ میں دوسری اذان کا رواج پڑا جو