اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 395
تاب بدر جلد 3 395 حضرت عثمان بن عفان مسجد کے دروازہ پر پڑے ہوئے ایک بڑے پتھر پر کھڑے ہو کر دی جاتی تھی جس کا نام زَورَاء تھا۔صحیح بخاری کی شرح نعمۃ الباری میں اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے:۔7656 764" ”ابن شہاب زہری نے سائب سے روایت کی ہے کہ اس باب کی حدیث میں اس کو تیسری اذان جو کہا ہے وہ اقامت کے اعتبار سے ہے۔پہلے دو اذانیں تھیں۔تیسری اذان دلوائی جاتی تھی۔پہلی روایت جو میں نے پڑھی تھی اس میں لکھا تھا ناں کہ لوگ بہت ہو گئے تو انہوں نے زوراء میں تیسری اذان بڑھادی۔تیسری اذان سے مراد یہ ہے کہ پہلی اذان، دوسری اذان یہ اور تکبیر جو ہے اس کو بھی اذان کے نام سے کہا گیا ہے اس طرح تین دفعہ نماز کے لیے بلایا جاتا ہے۔عید کے روز جمعہ کی نماز سے رخصت کے بارے میں بھی روایت ملتی ہے۔ابن از ھر کا آزاد کردہ غلام ابو عبید بیان کرتا ہے کہ اس نے حضرت عمر کی اقتدا میں ایک عید الا ضحی کے دن نماز عید ادا کی۔آپ نے خطبہ سے قبل نماز پڑھائی۔پھر آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور کہا اے لوگو! یقیناً رسول اللہ صلی الم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ان میں سے ایک تو روزوں کے افطار ہونے کی خوشی میں عید کا دن ہے اور دوسر اوہ دن ہے جب تم اپنی قربانیوں میں سے کھاتے ہو۔ابو عبید کہتا ہے کہ پھر اس نے حضرت عثمان بن عفان کے زمانے میں آپ کے پیچھے ایک عید پڑھی۔وہ جمعہ کا دن تھا۔آپ نے خطبہ سے قبل نماز پڑھائی۔پھر آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور کہا اے لو گو! یہ وہ دن ہے جس میں تمہارے لیے دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔پس مدینہ کے اطراف میں رہنے والوں میں سے جو جمعہ کا انتظار کرنا چاہتا ہے تو وہ انتظار کر سکتا ہے اور جو واپس جانا پسند کرتا ہے تو اس کو میری طرف سے واپس جانے کی اجازت ہے۔فقہ احمدیہ میں ایک چیز جو لکھی گئی ہے اس پہ مجھے تو ابھی تک کوئی واضح ثبوت نہیں ملے۔وہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر جمعہ اور عید ایک روز جمع ہو جائیں تو عید کی نماز کے بعد نہ جمعہ پڑھا جائے اور نہ ظہر بلکہ عصر کے وقت میں عصر کی نماز پڑھی جائے۔”چنانچہ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک بار جمعہ اور عید الفطر دونوں ایک دن میں اکٹھے ہو گئے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا ایک دن میں دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں ان کو اکٹھا کر کے پڑھا جائے گا۔چنانچہ آپ نے دونوں کے لئے دو رکعتیں دو پہر سے پہلے پڑھیں۔اس کے بعد عصر تک کوئی نماز نہ پڑھی۔یعنی اس دن صرف نماز عصر ادا کی۔767 اس بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے بھی یہی فرمایا تھا۔اور تحقیق کی تھی۔68 766 پہلے میرا خیال تھا کہ ضرورت نہیں پھر کیونکہ کوئی اور ایسی روایات نہیں ملیں جو براہ راست