اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 393

اصحاب بدر جلد 3 393 حضرت عثمان بن عفان 758 کہ میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام آدمی ہوں۔آنحضرت صلی علیہ نمک کو حضرت عثمان سے جو تعلق تھا اور آپ کی نظر میں ان کا جو مقام تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت عثمان سے بغض رکھنے والے ایک شخص کا جنازہ آنحضرت صلی ا ہم نے نہیں پڑھا۔اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یم کی خدمت میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں لیکن آپ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔کسی نے عرض کی یارسول اللہ ؟ سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کی نماز جنازہ چھوڑی ہو۔اس پر آپ نے فرمایا یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا۔پس اللہ تعالیٰ کبھی اس سے دشمنی رکھتا 759 رض پھر حضرت عثمان کے انصاف کے بارے میں روایت آتی ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے بھائی کا بھی قصور ثابت ہونے پر ان کو سزا دینے کا کہا۔عبید اللہ بن عدی نے بیان کیا حضرت مِسْوَر بن مخرمه اور عبد الرحمن بن اسود بن عَبدِ يَغُوث دونوں نے مجھے کہا کہ تمہیں کیا بات روکتی ہے کہ حضرت عثمان سے ان کے بھائی ولید سے متعلق گفتگو کرو کیونکہ لوگوں نے ان کے متعلق بعض غلط باتوں کی وجہ سے بہت چہ میگوئیاں کی ہیں تو میں حضرت عثمان کے پاس گیا۔وہ نماز کے لیے باہر آئے۔میں نے کہا آپ سے مجھے ایک کام ہے اور وہ آپ کی خیر خواہی ہے۔حضرت عثمان نے کہا بھلے آدمی تم سے۔معمر نے کہا۔میں سمجھتا ہوں انہوں نے کہا ہے ان کا پیغام لے کے آیا ہے تو۔پھر کہا میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔یہ سن کر وہ شخص جو حضرت عثمان کے پاس گیا تھا وہاں سے چل دیا اور ان لوگوں کے پاس واپس آیا اتنے میں حضرت عثمان کا پیغامبر آیا اور میں ان کے پاس گیا۔انہوں نے پوچھا تمہاری خیر خواہی کیا ہے؟ کہتا تھا ناں آپ کی خیر خواہی چاہتا تھا۔تو میں نے کہا اللہ سبحانہ نے محمد صلی اللی علم کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ پر کتاب نازل کی اور آپ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صل الم کی دعوت قبول کی اور آپ نے دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ صلی علیکم کا ساتھ دیا اور آپ نے حضور کی روش دیکھی اور پھر میں نے کہا کہ ولید جو حضرت عثمان کے بھائی تھے اس کے متعلق لوگ بہت کچھ کہ چکے ہیں۔حضرت عثمان نے مجھ سے پوچھا اور کہا کیا تم نے رسول اللہ لی لی یم کا زمانہ پایا میں نے کہا نہیں لیکن آپ کے علم سے وہ باتیں مجھے پہنچی ہیں۔زمانہ تو نہیں پایا لیکن وہ باتیں مجھ تک پہنچی ہیں جو آنحضرت صل الم کے زمانے کی تھیں اور جو ایک کنواری عورت کو بھی اس کے پردے میں پہنچتی ہیں۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ اما بعد اللہ نے یقینا محمد علی ایم کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت قبول کی اور میں ان تمام باتوں پر ایمان لایا جن کے ساتھ آپ صلی یکم مبعوث کیے گئے اور میں نے دو ہجر تیں بھی کیں جیسا کہ تم نے کہا اور میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ رہا اور آپ کی بیعت کی اور اللہ کی قسم ! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ آپ سے کوئی دعا