اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 483
باب بدر جلد 3 483 حضرت علی کرتے تھے اور ان دونوں کی طرف حیرت زدہ شخص کی طرح ٹکٹکی لگائے بیٹھے تھے اور بعض لوگ ان دونوں کو آسمان کے فرقد نامی دوستاروں کی مانند تصور کرتے تھے اور دونوں کو درجہ میں ہم پلہ سمجھتے تھے لیکن سچ یہ ہے کہ حق (علی) مرتضی کے ساتھ تھا اور جس نے آپ کے دور میں آپ سے جنگ کی تو اس نے بغاوت اور سرکشی کی لیکن آپ کی خلافت اس امن کی مصداق نہ تھی جس کی بشارت خدائے رحمن کی طرف سے دی گئی تھی بلکہ (حضرت علی) مرتضی کو ان کے مخالفوں کی طرف سے اذیت دی گئی اور آپ کی خلافت مختلف قسم اور طرح طرح کے فتنوں کے نیچے پامال کی گئی۔آپ پر اللہ کا بڑا فضل تھا لیکن زندگی بھر آپ غمزدہ اور دل فگار رہے اور پہلے خلفاء کی طرح دین کی اشاعت اور شیطانوں کو رحم کرنے پر قادر نہ ہو سکے بلکہ آپ کو قوم کی طعن زنی سے ہی فرصت نہ ملی اور آپ کو ہر ارادے اور خواہش سے محروم کیا گیا۔وہ آپ کی مدد کے لئے جمع نہ ہوئے بلکہ آپ پر پیہم ظلم ڈھانے پر یکجا ہو گئے اور اذیت دینے سے باز نہ آئے بلکہ آپ کی مزاحمت کی اور ہر راستے میں بیٹھے اور آپ بہت صابر اور صالحین میں سے تھے مگر یہ ممکن نہیں کہ ہم ان کی خلافت کو اس (آیت استخلاف والی) بشارت کا مصداق قرار دیں کیونکہ آپ کی خلافت فساد، بغاوت اور خسارے کے زمانے میں تھی۔“ 967 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق عمر اور حضرت ذوالنورین اور ت علی مرتضیٰ سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔968 پھر آپ حضرت علی کے مقام و مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ “ یعنی حضرت علی ”رضی اللہ عنہ تقویٰ شعار، پاک باطن اور ان لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے ہاں سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں اور آپ قوم کے برگزیدہ اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔آپ خدائے غالب کے شیر ، خدائے مہربان کے جوانمرد، سخی، پاک دل تھے۔آپ ایسے منفرد بہادر تھے جو میدان جنگ میں اپنی جگہ نہیں چھوڑتے خواہ ان کے مقابلے میں دشمنوں کی ایک فوج ہو۔آپ نے ساری عمر تنگدستی میں بسر کی اور نوع انسانی کے مقام زہد کی انتہا تک پہنچے۔آپ مال و دولت عطا کرنے ، لوگوں کے ہم و غم دور کرنے اور یتیموں، مسکینوں اور ہمسایوں کی خبر گیری کرنے میں اول درجے کے مرد تھے۔آپ نے جنگوں میں طرح طرح کے بہادری کے جوہر دکھائے تھے۔تیر اور تلوار کی جنگ میں آپ سے حیرت انگیز واقعات ظاہر ہوتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نہایت شیریں بیان اور فصیح اللسان بھی تھے۔آپ کا بیان دلوں کی گہرائی میں اتر جاتا اور اس سے ذہنوں کے زنگ صاف ہو جاتے اور برہان کے نور سے اس کا چہرہ دمک جاتا۔آپ قسما قسم کے انداز بیان پر قادر تھے اور جو آپ سے ان میں مقابلہ کرتا تو اسے ایک مغلوب شخص کی طرح آپ سے معذرت کرنا پڑتی۔آپ ہر خوبی میں اور بلاغت و فصاحت