اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 484
اصحاب بدر جلد 3 484 حضرت علی کے طریقوں میں کامل تھے اور جس نے آپ کے کمال کا انکار کیا تو اس نے بے حیائی کا طریق اختیار کیا اور آپ لاچاروں کی غمخواریوں کی جانب ترغیب دلاتے اور قناعت کرنے والوں اور خستہ حالوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیتے۔آپ اللہ کے مقرب بندوں میں سے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ فرقان (حمید) کے جام (معرفت) نوش کرنے میں سابقین میں سے تھے اور آپ کو قرآنی دقائق کے ادراک میں ایک عجیب فہم عطا کیا گیا تھا۔میں نے عالم بیداری میں انہیں دیکھا ہے نہ کہ نیند میں۔پھر (اسی حالت میں ) آپ نے خدائے علام الغیوب) کی کتاب کی تفسیر مجھے عطا کی اور فرمایا یہ میری تفسیر ہے اور یہ اب آپ کو دی جاتی ہے۔پس آپ کو اس عطا پر مبارک ہو “ یعنی حضرت علی نے یہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی اور فرمایا آپ کو اس عطا پر مبارک ہو۔جس پر میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔“ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جس پر میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور وہ تفسیر لے لی اور میں نے صاحب قدرت عطا کرنے والے اللہ کا شکر ادا کیا اور میں نے آپ کو خلق میں متناسب اور خُلق میں پختہ اور متواضع منکسر المزاج تاباں اور منور پایا اور میں یہ حلفاً کہتا ہوں کہ آپ مجھ سے بڑی محبت والفت سے ملے اور میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آپ مجھے اور میرے عقیدے کو جانتے ہیں اور میں اپنے مسلک اور مشرب میں شیعوں سے جو اختلاف رکھتا ہوں وہ اسے بھی جانتے ہیں لیکن آپ نے کسی بھی قسم کی ناپسندیدگی یا ناگواری کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی (مجھ سے) پہلو تہی کی بلکہ وہ مجھے ملے اور مخلص محبین کی طرح مجھ سے محبت کی اور انہوں نے سچے صاف دل رکھنے والے لوگوں کی طرح محبت کا اظہار فرمایا اور آپ کے ساتھ “ یعنی حضرت علی کے ساتھ ”حسین بلکہ حسن اور حسین دونوں اور سید الرسل خاتم النبیین بھی تھے اور ان کے ساتھ ایک نہایت خوبرو، صالحہ جلیلة القدر، بابرکت، پاکباز، لائق تعظیم، باوقار، ظاہر وباہر نور مجسم جوان خاتون بھی تھیں جنہیں میں نے غم سے بھر اہو اپا یا لیکن وہ اسے چھپائے ہوئے تھیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ حضرت فاطمتہ الزہر ا ہیں۔آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میں لیٹا ہو ا تھا۔پس آپ بیٹھ گئیں اور آپ نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور شفقت کا اظہار فرمایا اور میں نے دیکھا کہ وہ میرے کسی غم کی وجہ سے غمزدہ اور رنجیدہ ہیں اور بچوں کی تکالیف کے وقت ماؤں کی طرح شفقت و محبت اور بے چینی کا اظہار فرمارہی ہیں۔“ ( اس بات پر بھی بعض غیر از جماعت لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھو جی۔کیسی غلط بات کی ہے کہ ران پر سر رکھ لیا حالانکہ آپ نے یہ ماؤں کی مثال دی ہے اور اس سے پہلے جو باتیں کی ہیں اور وہ ساری جو صفات بیان کی ہیں اس کو اگر غور سے پڑھیں اور پھر یہ فقرہ دیکھیں کہ ماؤں کی طرح شفقت و محبت کی تو سارے اعتراض دور ہو جاتے ہیں لیکن گندی ذہنیت ہے اس لیے ان لوگوں میں اعتراض پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بہر حال پھر آپ یعنی مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ) ” پھر مجھے بتایا گیا کہ دین کے تعلق میں ان کے نزدیک میری حیثیت بمنزلہ بیٹے کے ہے اور میرے دل میں خیال آیا کہ ان کا غمگین ہونا یعنی حضرت فاطمہ کا غمگین ہونا ” اس امر پر “