اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 396
اصحاب بدر جلد 3 396 حضرت عثمان بن عفان آنحضرت صلی علیم کے تعامل سے یا عمل سے ثابت ہوتی ہوں جبکہ ظہر کی نماز بھی چھوڑی گئی ہو۔یہی ایک روایت ہے جو حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کیا۔تو اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔فقہ دوبارہ ریوائز (revise) ہو رہا ہے۔میر اخیال ہے اس بات کو مزید غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں تک یہ صحیح ہے کہ ظہر کی نماز بھی نہ پڑھی جائے۔جمعہ تو ٹھیک ہے نہیں پڑھا جائے گا لیکن یہ کہنا کہ ظہر کی نماز بھی نہ پڑھی جائے اس میں سوائے اس روایت کے آنحضرت صلی الم سے براہ راست یا خلفائے راشدین سے براہ راست کوئی ایسی روایت نہیں ملتی یا ابھی تک سامنے نہیں آئی۔جہاں تک میں نے تحقیق کروائی ہے۔جمعہ کے دن غسل کے بارے میں روایت ہے۔حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان داخل ہوئے تو حضرت عمر نے ان کے متعلق اشارۃ فرمایا۔لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اذان کے بعد بھی دیر سے آتے ہیں ؟ اس پر حضرت عثمان نے کہا اے امیر المومنین! میں تو اذان سنتے ہی وضو کر کے چلا آیا ہوں۔حضرت عمرؓ نے کہا صرف وضو کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیے کہ وہ غسل کرے اگر پانی میسر ہے، سہولتیں میسر ہیں تو غسل کرنا ضروری ہے۔”سلسلہ احادیث میں دوسرے صحابہ کی نسبت حضرت عثمان سے مرفوع احادیث بہت کم مروی ہیں۔آپ کی کل روایتوں کی تعداد 146 ہے جن میں تین متفق علیہ ہیں یعنی بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں اور آٹھ صرف بخاری میں اور پانچ صرف مسلم میں ہیں۔اس طرح صحیحین میں آپؐ کی کل سولہ حدیثیں ہیں۔ان کی روایات کی قلت کی وجہ یہ ہے کہ وہ روایات حدیث میں یعنی حضرت عثمان روایات حدیث میں حد درجہ محتاط تھے۔فرماتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہی نام سے بیان کرنے میں یہ چیز مانع ہوتی ہے کہ شاید دیگر صحابہ کے مقابلہ میں میرا حافظہ زیادہ قوی نہ ہو۔کہتے ہیں کوئی بات میں بیان کروں تو یہ روک ہوتی ہے کہ یہ نہ ہو کہ دوسرے صحابہ کے مقابلے میں میرا حافظہ اتنا مضبوط نہ ہو اور ان کی بات صحیح ہو۔اس لیے میں روایات بیان کرنے میں بڑا محتاط ہوں۔فرمایا کہ ”لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف وہ منسوب کرے گا جو میں نے نہیں کہا ہے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔اسی 769 770< " لیے وہ (حضرت عثمانؓ ) حدیث کی روایت میں سخت احتیاط کرتے تھے۔“ عبد الرحمن بن حاطب کا بیان ہے کہ میں نے کسی صحابی کو حضرت عثمان سے زیادہ پوری بات کرنے والا نہیں دیکھا لیکن وہ حدیث بیان کرتے ڈرتے تھے۔حمدان بن ابان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔گلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا اور بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور سر پر اور دونوں پاؤں کے اوپر والے حصہ پر مسح فرمایا۔پھر آپؐ ہنس پڑے۔پھر اپنے ساتھیوں سے کہا۔کیا تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ نہیں پوچھو گے ؟ انہوں نے کہا اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے تھے ؟ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی علیکم کو