اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 397
صحاب بدر جلد 3 397 حضرت عثمان بن عفان دیکھا کہ آپ نے اسی جگہ کے قریب پانی منگوایا۔پھر آپ نے اسی طرح وضو کیا جیسا کہ میں نے وضو کیا ہے۔پھر آپ ہنس دیے۔پھر آپ نے ، آنحضرت صلی الم نے صحابہ سے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ! آپ نے فرمایا انسان جب وضو کا پانی منگوائے اور اپنا چہرہ دھوئے تو اللہ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے جو چہرے سے ہوتے ہیں۔پھر جب وہ اپنے باز و دھوتا ہے تب بھی ایسا ہی ہو تا ہے۔پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں پاک کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔یہ روایت اصل میں تو پہلی وضو والی روایت کے ساتھ ہی بیان ہونی چاہیے تھی۔بہر حال اب بیان ہو گئی۔771 حضرت عثمان کی شادیاں اور اولاد کے متعلق جو روایات ہیں اس کے مطابق حضرت عثمان نے آٹھ شادیاں کیں۔یہ سب شادیاں اسلام قبول کرنے کے بعد کیں۔آپ کی ازواج اور اولاد کے نام درج ذیل ہیں۔حضرت رقیہ بنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔آپؐ کے بطن سے آپ کے فرزند عبد اللہ بن عثمان پیدا ہوئے۔حضرت ام کلثوم بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔حضرت رقیہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان نے آپ سے شادی کی۔حضرت فاختہ بنت غزوان۔آپ حضرت عتبہ بن غزوان کی ہمشیرہ تھیں۔ان کے بطن سے آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بھی عبد اللہ تھا اور اس کو عبد اللہ الاصغر کہا جاتا تھا۔حضرت ام عمر و بنت جندب از دیه۔ان کے بطن سے عمرو، خالد ، آبان، عمر اور مریم کی ولادت ہوئی۔حضرت فاطمہ بنت ولید مخزومیہ۔ان کے بطن سے ولید، سعید اور ام سعید کی ولادت ہوئی۔حضرت ام البنين بنت عيينه بن حضن فزاریہ۔ان کے بطن سے آپ کے فرزند عبد الملک کی ولادت ہوئی۔حضرت رملہ بنت شیبہ بن ربیعہ۔ان کے بطن سے عائشہ، ام ابان اور ام عمرو کی ولادت ہوئی۔حضرت نائلہ بنتِ فَرافِصَهُ بن اخوصیه پہلے نصرانی تھیں لیکن رخصتی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اور اچھی مسلمان ثابت ہوئیں۔ان سے آپ کی بیٹی مریم پیدا ہوئیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک بیٹا عنبسہ بھی پیدا ہوا تھا۔حضرت عثمان کی جب شہادت ہوئی تو اس وقت ایک روایت کے مطابق آپ کی یہ چار ازواج آپ کے پاس تھیں۔حضرت رملہ اور حضرت نائلہ اور حضرت ام البنین اور حضرت فاختہ جبکہ ایک اور روایت کے مطابق محاصرہ کے ایام میں حضرت عثمان نے حضرت ام البنین کو طلاق دے دی تھی۔772 حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سورہ نور کی تفسیر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک نور معرفت کا ہوتا ہے جس سے بھلے برے کی تمیز ہوتی ہے۔وہ نور ان گھروں میں ہوتا ہے جن گھروں میں صبح شام اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے۔وہاں جو لوگ رہتے ہیں وہ تاجر ہیں۔ان کے گھر چھوٹے ہیں مگر کسی دن اللہ ان کے گھروں کو بڑا بنا دے گا۔چنانچہ اس قرآن شریف کا جمع کرنے والا حضرت ابو بکر صدیق ہے۔پھر حضرت عمرؓ۔پھر حضرت عثمانؓ اس کے شائع کرنے والے ہیں۔پھر حضرت علیؓ جن سے سچے روحانی علوم دنیا میں پہنچے۔حضرت خلیفہ اول کہتے ہیں کہ میں نے بھی خود بلا واسطہ حضرت علی سے