اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 366
اصحاب بدر جلد 3 366 حضرت عثمان بن عفان بھی خائف نہیں تھے ایک اور زبر دست ثبوت یہ ہے جیسا کہ خطبہ کے شروع میں بیان ہوا تھا کہ اس فتنہ کے دوران میں ایک دفعہ حضرت معاویہ حج کے لیے آئے۔جب وہ شام کو واپس جانے لگے تو مدینہ میں وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے اور عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ شام چلیں وہاں آپ ان فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔آپؐ نے فرمایا کہ معاویہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دے سکتا۔انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ کو یہ بات منظور نہیں تو میں شامی سپاہیوں کا ایک لشکر آپ کی حفاظت کے لیے بھیج دیتا ہوں۔حضرت عثمان نے فرمایا اپنی حفاظت کے لیے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔حضرت معاویہ نے عرض کیا کہ امیر المومنین ! لوگ آپ کو دھوکے سے قتل کر دیں گے یا ممکن ہے کہ آپ کے خلاف وہ بر سر جنگ ہو جائیں۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ مجھے اس کی پروا نہیں۔میرے لیے میر اخد ا کافی ہے۔آخر انہوں نے کہا اگر آپ اور کچھ منظور نہیں کرتے تو اتنا کریں کہ شرارتی لوگوں کو بعض اکابر صحابہ کے متعلق گھمنڈ ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے۔چنانچہ وہ ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کر دیں اور بیرونی ملکوں میں پھیلا دیں۔اس سے شریروں کے ارادے پست ہو جائیں گے اور وہ خیال کریں گے کہ آپ سے تعارض کر کے انہوں نے کیا لینا ہے جبکہ مدینہ میں کوئی اور کام کو سنبھالنے والا ہی نہیں ہے۔مگر حضرت عثمان نے یہ بات بھی نہ مانی، پہلے ذکر ہو چکا ہے ، اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع لیا ہے میں انہیں جلاوطن کر دوں۔حضرت معاویہ یہ سن کر رو پڑے اور انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ اور کچھ نہیں کرتے تو اتنا ہی اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہ لے گا۔آپ نے فرمایا معاویہ تمہاری طبیعت تیز ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ مسلمانوں پر تم کہیں سختی نہ کرو۔اس لیے میں یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔اب کہنے کو تو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان دل کے کمزور تھے مگر تم خود ہی بتاؤ کہ اس قسم کی جرات کتنے لوگ دکھا سکتے ہیں؟ اور کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دل میں کچھ بھی خوف تھا یعنی حضرت عثمان کے دل میں کوئی خوف تھا۔اگر خوف ہو تا تو وہ کہتے کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ میری حفاظت کے لیے بھجوا دو۔انہیں تنخواہ میں دلا دوں گا اور اگر خوف ہو تا تو آپ اعلان کر دیتے اگر مجھ پر کسی نے ہاتھ اٹھایا تو وہ سن لے کہ میر ابدلہ معاویہ لے گا مگر آپ نے سوائے اس کے کوئی جواب نہ دیا کہ معاویہ تمہاری طبیعت تیز ہے۔میں ڈر تاہوں کہ اگر میں نے تم کو یہ اختیار دے دیا تو تم مسلمانوں پر سختی کروگے۔پھر جب آخر میں دشمنوں نے دیوار پھاند کر آپ پر حملہ کیا تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے اظہار کے آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر کا ایک بیٹا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، آگے بڑھا اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داڑھی پکڑ کے اسے زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان نے اس کی طرف آنکھ اٹھائی اور فرمایا میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ اس وقت ہو تا تو تو کبھی ایسا نہ کرتا۔یہ سنتے ہی اس کا سر سے لے کر پیر تک جسم کانپ گیا اور شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔