اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 365
محاب بدر جلد 3 365 حضرت عثمان بن عفان 689 مجرم تھے جو اپنے دیرینہ بغض کو نکالنا چاہتے تھے۔کچھ لٹیرے اور ڈاکو تھے جو اس فتنہ پر اپنی ترقیات کی راہ دیکھتے تھے۔نپس ان کی بے حیائی قابل تعجب نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اگر ایسی حرکات نہ کرتے تب تعجب کا مقام تھا۔جب یہ لوگ لوٹ مار کر رہے تھے تو ایک اور آزاد کردہ غلام سے حضرت عثمان کے گھر والوں کی چیخ و پکار سن کر نہ رہا گیا اور اس نے حملہ کر کے اس شخص کو قتل کر دیا جس نے پہلے غلام کو مارا تھا۔اس پر ان لوگوں نے اسے بھی قتل کر دیا اور عورتوں کے جسم پر سے بھی زیور اتار لیے اور ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے گھر سے نکل گئے۔حضرت مصلح موعود ان قاتلین کی بد تہذہبی کا مزید ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ خود انہوں نے کیا کیا! حضرت عثمان کو شہید کیا اور جب خون میں تڑپ رہے تھے تو قاتل ان کی بیوی، حضرت عثمان کی بیوی کے متعلق بیہودہ بکواس کر رہے تھے ، جسم کے بارے میں تبصرے کر رہے تھے۔پھر اس سے بھی بد تر انہوں نے کام کیا یعنی حضرت عثمان کی بیوی پر ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھے اور حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے متعلق بھی باتیں کیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ باتیں سن کے میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بہت بڑا مر تبہ دیا ہے اور میں اس پر فخر کرتا ہوں لیکن میرادل چاہتا ہے کہ کاش میں اُس وقت ہوتا اور اب نہ ہو تا تو میں ان لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا۔ان لوگوں کی انتہا کیا تھی؟ حضرت عائشہ کے بارے میں جیسا کہ میں نے کہا فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بے پرد کیا اور دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو نوجوان 690 حضرت عثمان کی جرآت و بہادری حضرت عائشہ پر بھی تبصرے سے باز نہیں آئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں سے کبھی خائف نہیں ہوئے یعنی حضرت عثمان اس بات سے کبھی خائف نہیں ہوئے کہ مجھ سے کیا سلوک ہو گا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ جب باغیوں نے مدینہ پر قبضہ کر لیا تو وہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے اور اہل مدینہ کو ایک دوسرے سے جداجدار کھتے تاوہ اکٹھے ہو کر ان کا مقابلہ نہ کر سکیں مگر باوجود اس شورش اور فتنہ انگیزی اور فساد کے حضرت عثمان نماز پڑھنے کے لیے اکیلے مسجد میں تشریف لاتے اور ذرا بھی خوف محسوس نہ کرتے اور اس وقت تک برابر آتے رہے جب تک لوگوں نے آپ کو منع نہ کر دیا۔جب فتنہ بہت بڑھ گیا اور حضرت عثمان کے گھر پر مفسدوں نے حملہ کر دیا تو بجائے اس کے کہ آپ صحابہ کا اپنے مکان کے ارد گرد پہرہ لگواتے آپ نے انہیں قسم دے کر کہا کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں اور اپنے گھروں کو چلے جائیں۔کیا شہادت سے ڈرنے والا آدمی بھی ایسا ہی کیا کرتا ہے اور وہ لوگوں سے کہا کرتا ہے کہ میری فکر نہ کرو بلکہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ثابت ہے کہ حضرت عثمانؓ کو شہادت سے کوئی خوف نہیں تھا۔پھر اس بات کا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان واقعات سے کچھ