اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 367
صحاب بدر جلد 3 367 حضرت عثمان بن عفان اس کے بعد ایک اور شخص آگے بڑھا اور اس نے ایک لوہے کی سیخ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے حضرت عثمان کے ہر پہ ماری اور آگے قرآن جو پڑا ہو ا تھا اس کو پاؤں سے ٹھو کر ماری۔الگ پھینک دیا۔وہ ہٹا تو ایک اور شخص آگے آیا اور اس نے تلوار سے آپ کو شہید کر دیا۔ان واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان واقعات سے خائف تھے۔191 خلافت کا عظیم الشان سلسلہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور اسی رنگ میں آئے جس رنگ میں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان اور دوسرے انبیاء مبعوث ہوئے تھے اور آپ کے بعد بھی اسی رنگ میں سلسلہ خلافت شروع ہوا جس طرح پہلے انبیاء کے بعد خلافت کا سلسلہ قائم ہوا۔اگر ہم عقل کے ساتھ دیکھیں اور اس کی حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ ایک عظیم الشان سلسلہ ہے۔یعنی خلافت کا سلسلہ ایک عظیم الشان سلسلہ ہے بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر دس ہزار نسلیں بھی اس کے قیام کے لیے قربان کر دی جائیں تو کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔میں دوسروں کے متعلق تو نہیں جانتا مگر کم از کم اپنے متعلق جانتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی تاریخ پڑھنے کے بعد جب میں حضرت عثمان پر پڑی ہوئی مصیبتوں پر نظر کرتا ہوں اور دوسری طرف اس نور اور روحانیت کو دیکھتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر ان میں پیدا کی تو میں کہتا ہوں کہ اگر دنیا میں میری دس ہزار نسلیں پیدا ہونے والی ہو تیں اور وہ ساری کی ساری ایک ساعت میں جمع کر کے قربان کر دی جائیں تا وہ فتنہ ٹل سکتا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مجوں دے کر ہا تھی خریدنے کا سودا ہے یعنی بہت چھوٹی سی چیز دے کر ، بجوں تو ایک بڑا معمولی سا کیڑا ہے وہ دے کے ہاتھی خریدنے کے سودے سے بھی یہ ستا ہے۔در حقیقت ہمیں کسی چیز کی قیمت کا پتہ پیچھے لگتا ہے۔692 فضائل و مناقب بعد میں پتہ آ یہ لگتا ہے کہ اصل قیمت کیا ہے۔حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد پتہ لگا کہ خلافت کی اہمیت کیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ " حضرت عمر کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی نظر مسند خلافت پر بیٹھنے کے لیے حضرت عثمان پر پڑی اور آپ اکابر صحابہ کے مشورہ سے اس کام کے منتخب کیے گئے۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یکے بعد دیگرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آپ سے بیاہی گئیں اور جب دوسری لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اُسے بھی حضرت عثمان سے بیاہ دیتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں آپ کو خاص قدر و منزلت حاصل تھی۔آپ اہل مکہ کی نظر میں نہایت ممتاز حیثیت رکھتے اور اس وقت ملک عرب کے حالات کے مطابق مالدار آدمی تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسلام اختیار کرنے کے بعد جن خاص خاص لوگوں کو تبلیغ