اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 315
محاب بدر جلد 3 315 حضرت عثمان بن عفان حضرت عثمان کا نام بھی بیان کیا جاتا ہے۔قرآن شریف میں ان لوگوں کے ضمن میں ذکر آتا ہے کہ اس وقت کے خاص حالات اور ان لوگوں کے دلی ایمان اور اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعِنِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَنُ بِبَعْضٍ مَا كَسَبُوا ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ (آل عمران:156) یقیناً تم میں سے وہ لوگ جو اس دن پھر گئے جس دن دو گروہ متصادم ہوئے یقیناً شیطان نے انہیں پھیلا دیا تھا بعض ایسے اعمال کی وجہ سے جو وہ بجالائے اور یقینا اللہ ان سے در گزر کر چکا ہے۔یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بہت بردبار ہے۔اس غزوہ کے دوران مسلمانوں کی اس کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ قریش کے لشکر نے قریباً چاروں طرف گھیر اڈال رکھا تھا اور اپنے پے در پے حملوں سے ہر آن دباتا چلا آتا تھا۔اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیر بعد سنبھل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبد اللہ بن قمیہ نے مسلمانوں کے علمبر دار مصعب بن عمیر پر حملہ کیا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ گر ایا۔مُضعَب نے فوراً دوسرے ہاتھ میں جھنڈ اتھام لیا اور ابن قمیئہ کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھے مگر اس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔اس پر مضع بے نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا۔جس پر ابن قیمہ نے ان پر تیسر اوار کیا اور اب کی دفعہ مُصعب شہید ہو کر گر گئے۔جھنڈا تو کسی دوسرے مسلمان نے فوراً آگے بڑھ کر تھام لیا مگر چونکہ مُصْعَب ساڈیل ڈول آنحضرت صلی ا ولم سے ملتا تھا ابن قیمہ نے سمجھا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار لیا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اور دھوکا دہی کے خیال سے ہو۔بہر حال اس نے مصعب کے شہید ہو کر گرنے پر شور مچادیا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار لیا ہے۔اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سے اوسان بھی جاتے رہے اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہو گئی اور بہت سے صحابی سراسیمہ ہو کر میدان سے بھاگ نکلے۔اس وقت مسلمان تین حصوں میں منقسم تھے۔ایک گروہ وہ تھا جو آنحضرت صلی علیکم کی شہادت کی خبر سن کر میدان سے بھاگ گیا تھا مگر یہ گروہ سب سے تھوڑا تھا یا یہ کہہ دیں کہ مایوس ہو کے منتشر ہو گیا تھا۔ان لوگوں میں حضرت عثمان بن عفان بھی شامل تھے مگر جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر آتا ہے اس وقت کے خاص حالات اور ان لوگوں کے دلی ایمان اور اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ان لوگوں میں سے بعض مدینہ تک جا پہنچے اور اس طرح مدینہ میں بھی آنحضرت صلی علیکم کی خیالی شہادت اور لشکر اسلام کی ہزیمت کی خبر پہنچ گئی جس سے تمام شہر میں ایک کہرام مچ گیا اور مسلمان مرد عورت بچے بوڑھے نہایت سراسیمگی کی حالت میں شہر سے باہر نکل آئے اور الله سة