اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 314
اصحاب بدر جلد 3 314 حضرت عثمان بن عفان غنیمت میں اور اجر میں حصہ مقرر فرمایا۔غزوہ غطفان محرم یا صفر 13 ہجری میں ہوا۔غزوۂ غطفان کے لیے مسجد کے علاقے کی طرف نکلتے وقت رسول اللہ صلی علی یکم نے حضرت عثمان کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا تو اس لحاظ سے اس میں بھی شامل نہیں ہوئے۔624 اس غزوہ کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں بیان فرمائی ہے کہ بنو غطفان کے بعض قبائل یعنی بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے لوگ اپنے ایک نامور جنگجو دغفور بن حارث کی تحریک پر پھر مدینہ پر اچانک حملہ کر دینے کی نیت سے نجد کے ایک مقام ذی امر میں جمع ہونے شروع ہوئے لیکن چونکہ آنحضرت صلی ایم اپنے دشمنوں کی حرکات وسکنات کا باقاعدہ علم رکھتے تھے، آپ کو ان کے اس خونی ارادے کی بروقت اطلاع ہو گئی اور آپ ایک بیدار مغز جرنیل کی طرح پیش بندی کے طور پر ساڑھے چار سو صحابیوں کی جمعیت کو اپنے ساتھ لے کر محرم 13ھ کے آخر یا صفر کے شروع میں مدینہ سے نکلے اور تیزی کے ساتھ کوچ کرتے ہوئے ذی امر کے قریب پہنچ گئے۔دشمن کو آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو اس نے جھٹ پٹ آس پاس کی پہاڑیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور مسلمان ذی امر میں پہنچے تو میدان خالی تھا۔البتہ بنو ثعلبہ کا ایک بدوی جس کا نام جباز تھا صحابہ کے قابو میں آگیا جسے قید کر کے وہ آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آنحضرت صلی ا ہم نے اس سے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے سارے لوگ پہاڑیوں میں محفوظ ہو گئے ہیں اور وہ کھلے میدان میں مسلمانوں کے سامنے نہیں آئیں گے۔ناچار آنحضرت صلی یہ تم کو واپسی کا حکم دینا پڑا مگر اس غزوہ کا اتنا فائدہ ضرور ہو گیا کہ اس وقت جو خطرہ بنو غطفان کی طرف سے پیدا ہو اتھاوہ وقتی طور پر ٹل گیا۔625 غزوہ احد جو شوال 13 ہجری میں ہوا تھا۔حضرت عثمان غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔پہلے دو غزوات میں تو (شامل) نہیں ہوئے تھے اس غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔دورانِ جنگ صحابہ کا ایک گر وہ ایسا تھا جو اچانک حملہ اور آنحضرت صلی علیم کی شہادت کی خبر سن کر میدان سے اِدھر اُدھر ہو گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ نبی کریم صلی علیکم کے ہمراہ صرف 12 صحابہ کا ایک چھوٹا سا گر وہ رہ گیا تھا۔حضرت عثمان پہلے گروہ میں سے تھے۔626 مسلمانوں نے جب لشکر قریش پر غلبہ پالیا اور وہ مالِ غنیمت اکٹھا کرنے لگے تو آنحضور صلیالی یکم نے جن پچاس تیر اندازوں کو اپنی جگہ نہ چھوڑنے کا ارشاد فرمایا تھا انہوں نے فتح کو دیکھ کر اپنی جگہ کو چھوڑ دیا حالانکہ نبی کریم صلی الم نے انہیں سختی سے اپنی جگہ نہ چھوڑنے کا ارشاد فرمایا تھا۔خالد بن ولید جو ابھی ن نہیں ہوئے تھے انہوں نے یہ منظر دیکھ کر فوراً وہاں سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔یہ حملہ ایسا اچانک، غیر متوقع اور اس قدر شدید تھا کہ مسلمان منتشر ہو گئے۔ان منتشر ہونے والے صحابہ میں مسلمان