اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 316
اصحاب بدر جلد 3 316 حضرت عثمان بن عفان احد کی طرف روانہ ہو گئے اور بعض تو جلد جلد دوڑتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچے اور اللہ کا نام لے کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔دوسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جو بھاگے تو نہیں تھے مگر آنحضرت صلیا ایم کی شہادت کی خبر سن کر یا تو ہمت ہار بیٹھے تھے اور یا اب لڑنے کو بریکار سمجھتے تھے اور اس لئے میدان سے ایک طرف ہٹ کر سر نگوں ہو کر بیٹھ گئے۔تیسر اگر وہ وہ تھا جو برابر لڑ رہا تھا۔ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی الم کے ارد گرد جمع تھے اور بے نظیر جان شاری کے جوہر دکھا رہے تھے اور اکثر وہ تھے جو میدان جنگ میں منتشر طور پر لڑ رہے تھے۔ان لوگوں اور نیز گروہ ثانی کے لوگوں کو جوں جوں آنحضرت صلی علیم کے زندہ موجود ہونے کا پتہ لگتا جاتا تھا یہ لوگ دیوانوں کی طرح لڑتے بھڑتے آپ کے ارد گرد جمع ہوتے جاتے تھے۔اس وقت جنگ کی حالت یہ تھی کہ قریش کا لشکر گویا سمندر کی مہیب لہروں کی طرح چاروں طرف سے بڑھا چلا آتا تھا اور میدان جنگ میں ہر طرف سے تیر اور پتھروں کی بارش ہو رہی تھی۔جاں نثاروں نے اس خطرہ کی حالت کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ وسلم کے ارد گرد گھیر اڈال کر آپ کے جسم مبارک کو اپنے بدنوں سے چھپا لیا مگر پھر بھی جب کبھی حملہ کی رو اٹھتی تھی تو یہ چند گنتی کے آدمی ادھر ادھر دھکیل دئے جاتے تھے اور ایسی حالت میں بعض اوقات آنحضرت صلی علی نیم قریباً اکیلے رہ جاتے تھے۔627 بہر حال اس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمان مایوس ہو کے یا کسی وجہ سے اس وقت آنحضرت صلی علم کی شہادت کی خبر سن کے وہاں سے چلے گئے تھے اور اسی طرح مایوس ہو کر بیٹھنے والوں میں نہیں تھے لیکن بیٹھنے والوں میں حضرت عمر کا بھی ذکر آتا ہے۔بہر حال وہ تو اپنے وقت پر بیان ہو گا۔صلح حدیبیہ اور حضرت عثمان اب میں بیان کرتا ہوں صلح حدیبیہ کے موقع پر جو سفارت کاری ہوئی اور بیعت رضوان ہوئی اس میں حضرت عثمان کا کر دار یا آپ کے بارے میں کیا واقعات ملتے ہیں۔آنحضرت صلی امین ہم نے رویا دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ امن کے ساتھ اپنے سروں کو منڈائے ہوئے اور بال چھوٹے کیے ہوئے بیت اللہ میں داخل ہو رہے ہیں۔اس رویا کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علم ذوالقعدہ 16 ہجری میں اپنے چودہ سو اصحاب کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے مدینہ سے نکلے۔حدیبیہ کے مقام پر آپ نے پڑاؤ کیا۔قریش نے صل الم کو عمرے کی ادائیگی سے روکا۔فریقین کے درمیان جب سفارت کاری کا آغاز ہوا اور آنحضرت صلی الم نے مکہ کے جوش و خروش کا حال سنا تو آپ نے فرمایا کسی ایسے بااثر شخص کو مکہ میں بھجوایا جائے جو مکہ ہی کا رہنے والا ہو اور قریش کے کسی معزز قبیلے سے تعلق رکھتا ہو۔628 چنانچہ حضرت عثمان کو اس مقصد کے لیے بھجوایا گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کا کچھ ذکر میں کرتا ہوں۔آپ نے لکھا ہے کہ: