اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 286
ب بدر جلد 3 286 حضرت عمر بن خطاب نہیں ہے۔حضرت عمر ڈ نے پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جب گیارہ راتیں اس مہینے کی گزر جائیں تو ہم ایک کنواری لڑکی کے پاس اس کے والدین کی موجودگی میں جاتے ہیں۔پھر اس کے والدین کو رضا مند کرتے ہیں اور اس کو بہترین کپڑے اور زیورات پہناتے ہیں۔پھر اس کو دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں۔یعنی شروع میں ڈال دیتے تھے۔حضرت عمر نے ان سے کہا کہ اسلام میں ایسا کبھی نہیں ہو گا۔یقیناً اسلام ان تمام رسموں کو ختم کرتا ہے جو اس سے پہلے تھیں۔پس وہ ٹھہرے رہے اور آخر جب ایسا وقت آگیا کہ دریائے نیل بھی خشک ہو گیا۔دریائے نیل اس وقت بالکل نہیں یہ رہا تھا یہاں تک کہ لوگوں نے وطن سے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔لوگوں نے وہاں سے جانے کا، جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیا۔پس جب حضرت عمر نے یہ دیکھا تو حضرت عمر بن خطاب کو اس کے بارے میں لکھا۔حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاص کو جو ابا لکھا کہ تم نے جو کچھ کہا وہ ٹھیک ہے۔یقیناً اسلام ان تمام رسموں کو ختم کرتا ہے جو اس سے پہلے تھیں۔انہوں نے خط کے اندر ایک چھوٹا رقعہ بھیجا اور حضرت عمر نے حضرت عمر و گو لکھا کہ یقیناً میں نے تمہاری طرف اپنے خط کے اندر ایک رقعہ بھیجا ہے اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا۔جب حضرت عمر کا خط حضرت عمرو بن عاص کو پہنچا تو انہوں نے وہ رقعہ نکالا اور اس کو کھولا تو اس میں لکھا تھا۔اللہ کے بندے عمر بن خطاب امیر المومنین کی طرف سے مصر کے دریائے نیل کی طرف۔اما بعد ، اگر تو خود سے بہ رہا ہے تو نہ بہ ، لیکن اگر اللہ تعالیٰ تجھے چلا رہا ہے تو میں اللہ واحد و قہار سے دعا کر تاہوں کہ وہ تجھے چلائے۔پس حضرت عمرو نے وہ رقعہ صلیب کے تہوار سے ایک دن پہلے دریائے نیل میں ڈال دیا۔جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رات میں سولہ ہاتھ زیادہ پانی دریائے نیل میں جاری کر دیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل مصر کی اس رسم کا خاتمہ کر دیا۔541 اکثر تاریخی کتب میں تو اس واقعہ کی تصدیق ہی لکھی ہے لیکن حضرت عمرؓ کے ایک سیرت نگار محمد حسین ہیکل نے اس کی تردید کی ہے کہ ایسی کوئی رسم نہیں تھی۔542 بہر حال یہ ایک واقعہ ہے۔کی پھر حضرت ساریہ کی جنگ میں حضرت عمر کی آواز سننے کا واقعہ ہے، پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔یہاں بھی اس حوالے سے بیان کر دیتا ہوں قبولیت دعا کے حوالے سے اور جو اللہ تعالیٰ کا ایک خاص سلوک تھا۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ساریہ بن زنیم کو فسا اور دار ابجر د کے علاقے کی طرف روانہ کیا۔انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کا محاصرہ کر لیا تو اس پر انہوں نے اپنے حمایتی لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔وہ لوگ مسلمان لشکر کے مقابلہ کے لیے صحرا میں اکٹھے ہو گئے اور جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی تو انہوں نے ہر طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا۔حضرت عمررؓ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے فرمایا يَا سَارِيَةُ ابن زُنَيْم ، الْجَبَلَ الجبل “ یعنی اے ساریہ بن زنیم ! پہاڑ پہاڑ۔مسلمان لشکر جس جگہ مقیم تھا اس کے قریب ہی ایک پہاڑ تھا۔اگر وہ اس کی پناہ لیتے تو دشمن صرف ایک طرف سے حملہ آور ہو سکتا تھا۔پس انہوں نے پہاڑ کی