اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 285

محاب بدر جلد 3 285 537 حضرت عمر بن خطاب فرمایا بلکہ اسے اپنے اس حکم کی تعمیل قرار دیا جو آپ نے حضرت ابو عبیدہ کو بھیجا تھا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے علاوہ حضرت معاذ بن جبل، حضرت یزید بن ابوسفیان، حضرت حارث بن ہشام اور حضرت سہیل بن عمرو اور حضرت عتبہ بن سہیل اور ان کے علاوہ بھی دیگر معززین اس وبا سے فوت ہوئے تھے۔538 طاعون عمواس سے واپس آنے کا ذکر ایک جگہ پر حضرت مصلح موعود نے بھی بیان فرمایا ہے۔آپ بیان فرماتے ہیں کہ ”جب شام میں جنگ ہوئی اور وہاں طاعون پڑی حضرت عمر وہاں خود تشریف لے گئے تاکہ لوگوں کے مشورہ سے فوج کی حفاظت کا کوئی معقول انتظام کیا جاسکے مگر جب بیماری کا حملہ تیز ہو گیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کا یہاں ٹھہر نا مناسب نہیں، آپ واپس مدینہ تشریف لے جائیں۔جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت ابو عبیدہ نے کہا أَفرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے آپ بھاگتے ہیں ؟ حضرت عمر نے فورا جواب دیا۔نَعَمْ نَفِرُّ مِن قدر الله إلى قدر اللہ۔ہاں ہم خدا تعالیٰ کی ایک تقدیر سے اس کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔غرض دنیاوی سامانوں کو ترک کرنا جائز نہیں۔ہاں دنیاوی سامانوں کو دین کے تابع رکھنا چاہئے۔539❝ حضرت عمر کی قبولیت دعا کے چند واقعات ہیں۔حضرت خوات بن جبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے دور خلافت میں لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوئے تو حضرت عمر لو گوں کے ساتھ نکلے اور ان کو دور کعت نماز استسقاء پڑھائی۔پھر اپنی چادر اپنے دونوں کندھوں پر ڈالی اور چادر کے دائیں طرف کو بائیں کندھے پر ڈالا اور بائیں طرف والی چادر کو دائیں کندھے پر ڈالا یعنی لپیٹ لی۔پھر اپنے ہاتھ کو دعا کے لیے اٹھایا اور عرض کیا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَغْفِرُكَ وَنَسْتَسْقِيْكَ کہ اے اللہ عزوجل !بے شک ہم تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور بارش کے خواستگار ہیں۔ابھی آپ دعا مانگ کر اپنی جگہ سے پیچھے نہیں ہوئے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔راوی کہتے ہیں کہ ہمارے جو دیہاتی لوگ تھے وہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور عرض کیا ”اے امیر المومنین فلاں دن فلاں وقت ہم اپنے صحرائی مسکن میں تھے کہ بادلوں نے ہم پر سایہ کیا اور ہم نے اس میں سے ایک آواز سنی کہ اے ابو حفص! بارش کے ذریعہ مدد تمہارے پاس آئی۔اے ابو حفص ! بارش کے ذریعہ مدد تمہارے پاس آئی۔540 آپ کی ایک دعا کی قبولیت کا واقعہ دریائے نیل کے جاری ہونے کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے۔دریائے نیل جب خشک ہو تا تھا تو اسلام سے پہلے وہاں کے لوگوں میں اسے جاری رکھنے کی ایک رسم تھی اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ واقعی اس رسم کا کوئی اثر ہو تا تھا یا نہیں لیکن اسلام نے آکر اس رسم کا خاتمہ کر دیا اور اس رسم کے خاتمے کے بارے میں جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے وہ یوں ہے کہ قیس بن حجاج سے روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو وہاں کے باشندے عجمی مہینوں کے کسی دن حضرت عمر و بن عاص کے پاس آئے تو لوگوں نے کہا اے امیر ! ہمارے دریائے نیل کے لیے ایک رسم ہے جس کے بغیر یہ بہتا