اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 287

حاب بدر جلد 3 287 حضرت عمر بن خطاب جانب پناہ لے لی۔اس کے بعد انہوں نے جنگ کی اور دشمن کو شکست دی اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا۔343 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس واقعہ کو بیان فرما کر فرمایا ہے کہ صحابہ سے ایسے 544 خوارق کثرت سے ثابت ہیں۔4 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو مکمل اقتباس ہے وہ میں گذشتہ خطبہ میں پڑھ چکا ہوں۔پس دریائے نیل کے جاری کرنے والے واقعہ کو بھی ہم دیکھیں تو بعید نہیں کہ وہ بھی صحیح واقعہ ہی ہو جس کو بعض تاریخ دان صحیح نہیں مانتے۔حضرت عمر کی ٹوپی کی برکت اور قیصر روم کے بارے میں ایک ذکر ملتا ہے۔اس کو حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک دفعہ قیصر کے سر میں شدید درد ہوا اور باوجود ہر قسم کے علاج کے اسے آرام نہ آیا۔کسی نے اسے کہا کہ حضرت عمر کو اپنے حالات لکھ کر بھجوا دو اور ان سے تبرک کے طور پر کوئی چیز منگواؤ۔وہ تمہارے لیے دعا بھی کریں گے اور تبرک بھی بھجوا دیں گے۔ان کی دعا سے تمہیں ضرور شفا حاصل ہو جائے گی۔اس نے حضرت عمرؓ کے پاس اپنا سفیر بھیجا۔حضرت عمر نے سمجھا کہ یہ متکبر لوگ ہیں۔میرے پاس اس نے کہاں آنا ہے۔اب یہ دکھ میں مبتلا ہوا ہے تو اس نے اپنا سفیر میرے پاس بھیج دیا ہے۔اگر میں نے اسے کوئی اور تبرک بھیجا تو ممکن ہے وہ اسے حقیر سمجھ کر استعمال نہ کرے۔اس لیے مجھے کوئی ایسی چیز بھجوانی چاہیے جو تبرک کا کام بھی دے اور اس کے تکبر کو بھی توڑ دے۔چنانچہ انہوں نے اپنی ایک پرانی ٹوپی جس پر جگہ جگہ داغ لگے ہوئے تھے اور جو میل کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی اسے تبرک کے طور پر بھجوادی۔اس نے جب یہ ٹوپی دیکھی تو اسے بہت بر الگا تو اس نے ٹوپی نہ پہنی مگر خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہیں برکت اب محمد رسول اللہ صلی علیکم کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔اسے اتنا شدید درد سر ہوا کہ اس نے اپنے نوکروں سے کہا وہ ٹوپی لاؤ جو عمرؓ نے بھجوائی تھی تاکہ میں اسے اپنے سر پر رکھوں۔چنانچہ اس نے ٹوپی پہنی اور اس کا درد جاتارہا۔چونکہ اسے ہر آٹھویں دسویں دن سر درد ہو جایا کرتا تھا اس لیے پھر تو اس کا یہ معمول ہو گیا کہ وہ دربار میں بیٹھتا تو وہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی میلی کچیلی ٹوپی اس نے اپنے سر پر رکھی ہوئی ہوتی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ نشان جو خدا تعالیٰ نے اسے دکھایا اس میں ایک اور بات بھی مخفی تھی۔(اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی ال نیم کے ایک صحابی قیصر کے پاس قید تھے اور اس نے حکم دیا تھا کہ انہیں سور کا گوشت کھلایا جائے۔وہ فاقے برداشت کرتے مگر سور کے قریب نہیں جاتے تھے۔گو اسلام نے یہ کہا ہے کہ اضطرار کی حالت میں سور کا گوشت کھالینا جائز ہے مگر وہ کہتے تھے کہ میں صحابی ہوں میں ایسا نہیں کر سکتا۔جب کئی کئی دن کے فاقوں کے بعد وہ مرنے لگتے تو قیصر انہیں روٹی دے دیتا۔جب پھر انہیں کچھ طاقت آجاتی تو وہ پھر کہتا کہ انہیں سور کھلایا