اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 266
حاب بدر جلد 3 266 حضرت عمر بن خطاب پابندی نہیں ہے لیکن پھر بھی اسراف سے کام نہیں لینا چاہیے۔حضرت مصلح موعود آیت وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَ لَمْ يَقْتُرُوا وَ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا (الفرقان: 68) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی عبد الرحمن بننا چاہے تو اس کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے وقت دو باتوں کا لحاظ کرے۔اول یہ کہ وہ اپنے مال میں اسراف نہ کرے۔اس کا کھانا صرف تکلف اور مزے کے لیے نہیں ہو تا بلکہ قوت طاقت اور بدن کو قائم رکھنے کے لیے ہوتا ہے۔اس کا پہننا آرائش کے لیے نہیں ہو تا بلکہ بدن کو ڈھانکنے اور خدا تعالیٰ نے جو اسے حیثیت دی ہے اس کے محفوظ رکھنے کے لیے ہوتا ہے۔چنانچہ صحابہ کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ وہ اسی طرح کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ ایک دفعہ ملک شام کو تشریف لے گئے وہاں بعض صحابہ نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔( ریشمی کپڑوں سے مراد وہ کپڑے ہیں جس میں کسی قدر ریشم تھا ورنہ خالص ریشم کے کپڑے سوائے کسی بیماری کے مردوں کو پہننے منع ہیں۔حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ان لوگوں پر خاک پھینکو یعنی برا منایا اور ان سے کہا کہ تم اب ایسے آسائش پسند ہو گئے ہو کہ ریشمی کپڑے پہنتے ہو۔اس پر ان صحابہ میں سے ایک نے کر تہ اٹھا کر دکھایا تو معلوم ہوا کہ اس نے نیچے موٹی اون کا سخت کر نہ پہنا ہوا تھا۔اس نے حضرت عمر کو بتایا کہ ہم نے ریشمی کپڑے اس لیے نہیں پہنے کہ ہم ان کو پسند کرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ اس ملک کے لوگوں کی طرز ہی ایسی ہے۔اور یہ بچپن سے ایسے امراء کو دیکھنے کے عادی ہیں جو نہایت شان و شوکت سے رہتے تھے۔پس ہم نے بھی ان کی رعایت سے اپنے لباسوں کو ملکی سیاست کے طور پر بدلا ہے ورنہ ہم پر ان کا کوئی اثر نہیں۔پس صحابہ کا عمل بتاتا ہے کہ اسراف سے کیا مراد ہے۔اس سے یہی مراد ہے کہ مال ایسی اشیاء پر نہ خرچ کرے جن کی ضرورت نہیں اور جن کا مدعا صرف آرائش اور زیبائش ہو۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبادالرحمن وہ ہوتے ہیں جو اپنے مالوں میں اسراف نہیں کرتے۔جو مالوں میں اسراف نہ کرتے ہوں وہ اپنے مالوں کو ریا اور دکھاوے کے لیے خرچ نہ کرتے ہوں بلکہ فائدہ اور نفع کے لیے صرف کرتے ہوں۔پھر اپنے مالوں کو ایسی جگہ دینے سے نہ روکیں جہاں دینا ضروری ہو اور ان کا قوام ہو یعنی درمیانی ہو ( اس فائدہ کا ذریعہ بن رہا ہو ) نہ اپنے مالوں کو اس طرح لوٹائیں جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت نہ ہو اور نہ اس طرح رو کیں کہ جائز حقوق کو بھی ادانہ کریں۔یہ دو شرطیں عبادالرحمن کے لیے مال خرچ کرنے کے متعلق ہیں لیکن بہت لوگ ہیں جو یا تو اسراف کی طرف چلے جاتے ہیں یا بخل کی طرف چلے جاتے ہیں۔484 حضرت عمرؓ دکھاوے اور شان و شوکت والے لباس کے اس قدر خلاف تھے کہ مفتوح دشمن کے لیے بھی یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ کوئی ایسا لباس پہن کے ان کے سامنے آئے جو شان و شوکت والا۔چنانچہ فارسیوں کے سپہ سالار هرمزان کے واقعہ میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔یہ تفصیل تو میں پہلے