اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 267

اصحاب بدر جلد 3 267 حضرت عمر بن خطاب بیان کر چکا ہوں۔اس جگہ میں کچھ تھوڑا سا حصہ واضح کرنے کے لیے بیان کرتا ہوں۔جب تشٹر کی فتح کے وقت فارسیوں کے سپہ سالار ھرمزان نے ہتھیار پھینک دیے اور خود کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا اور اسے حضرت عمرؓ کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا گیا تو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے جو مسلمان لے جانے والے تھے انہوں نے اسے اس کا ریشمی لباس پہنا دیا تا کہ حضرت عمر اور مسلمان اس کی اصل بلیت کو دیکھ سکیں۔جب حضرت عمرؓ کے سامنے وہ آیا تو حضرت عمرؓ نے پوچھا کیا ھرمزان ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں۔تو حضرت عمرؓ نے اس کو اور اس کے لباس کو بغور دیکھا اور کہا میں آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں اور اللہ سے مدد مانگتا ہوں۔قافلہ کے لوگوں نے کہا کہ یہ ہر مان ہے۔اس سے بات کر لیں۔آپ نے کہا ہر گز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنا زرق برق لباس اور زیورات اتار دے۔یہ سب کچھ اتارا گیا اور پھر حضرت عمرؓ نے اس سے بات کی۔485 حضرت عمر کی عاجزی اور تقویٰ کے معیار کے بارے میں اس بات سے اندازہ ہوتا ہے۔حضرت عُروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب کو کندھے پر پانی کا ایک مشکیزہ اٹھائے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ جب وفود اطاعت اور فرمانبر داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے پاس آئے، مختلف قوموں کے وفد جب اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے تو میرے دل میں اپنی بڑائی کا احساس ہوا۔اس لیے میں نے اس بڑائی کو توڑنا ضروری سمجھا۔486 یہ بڑائی کیوں پیدا ہوئی؟ اس لیے میں نے سوچا کہ میں پھر اس کو اس طرح توڑوں کہ پانی کا مشکیزہ اٹھا کے لے کے جاؤں۔حضرت یحی بن عبد الرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مکہ سے قافلے کی صورت میں واپس آرہے تھے یہاں تک کہ ہم سخنان کی گھاٹیوں میں پہنچے تو لوگ رک گئے۔مجنان مکہ سے پچیس میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے اس جگہ پر وہ وقت بھی یاد ہے جب میں اپنے والد خطاب کے اونٹ پر ہو تا تھا اور وہ بہت سخت طبیعت کے انسان تھے۔ایک مرتبہ میں ان اونٹوں پر لکڑیاں لے کر جاتا تھا اور دوسری مرتبہ ان پر گھاس لے کر جاتا تھا۔آج میرا یہ حال ہے کہ لوگ میرے علاقے کے دور دراز میں سفر کرتے ہیں اور میرے اوپر کوئی نہیں۔یعنی میں ایک وسیع و عریض علاقے کا حاکم ہوں جس میں لوگ دور دور تک سفر کرتے ہیں اور مجھ سے ملنے آتے ہیں اور میرے اوپر دنیا کا کوئی حکمران نہیں ہے جو مجھ پر حکومت کرتا ہو۔پھر یہ شعر پڑھا۔لَا شَيْءٍ فِيمَا تَرَى إِلَّا بَشَاشَتَه يَبْقَى الْإِلهُ وَيُوْدِي الْمَالُ وَالْوَلَد یعنی جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں سوائے ایک عارضی خوشی کے۔صرف خدا کی ذات باقی رہے گی جبکہ مال اور اولا د فنا ہو جائے گی۔487