اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 265

اصحاب بدر جلد 3 265 حضرت عمر بن خطاب 482 یعنی جو امانت میں ادا کر رہا ہوں اور جس طرح ادا کر رہا ہوں، اس میں مجھے تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اس بات میں، اس بارے میں کہنا تمہارا کوئی حق نہیں۔حضرت عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ اور حضرت عبد اللہ اور ان کے علاوہ کچھ اور لوگوں نے حضرت عمرؓ سے بات کرتے ہوئے کہا۔اگر آپ زیادہ عمدہ غذا کھائیں تو حق کے لیے کام کرنے پر آپ زیادہ قوی ہو جائیں گے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کیا تم سب کی یہی رائے ہے تو انہوں نے کہا ہاں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں تمہاری خیر خواہی سمجھ گیا ہوں لیکن میں نے اپنے دونوں دوستوں یعنی آنحضرت صلی علیہ کم اور حضرت ابو بکر کو اس راستے پر چھوڑا ہے کہ اگر میں نے ان دونوں کا وہ راستہ چھوڑ دیا تو میں ان دونوں سے منزل میں نہیں مل سکوں گا۔2 حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علی کمر کا زمانہ خوف و خطر کا زمانہ تھا۔اس وقت جو آپ نے مسلمانوں کو احکام دیے تھے ہم ان سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔آپ کا اپنا طریق بھی یہ تھا اور ہدایت بھی آپ نے یہ کر رکھی تھی کہ ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے۔حضرت مصلح موعود اپنے ایک خطبہ میں تحریک جدید کے سلسلہ میں ہی یہ ذکر کر رہے ہیں۔بہر حال فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی للی علم کی ہدایت تھی کہ ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے اور اس پر اتنا زور دیتے تھے کہ بعض صحابہ نے اس میں غلو کر لیا۔انتہا سے بڑھ گئے۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے سامنے سر کہ اور نمک رکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ دو کھانے کیوں رکھے گئے ہیں جبکہ رسول کریم صلی علی نیم نے صرف ایک کھانے کا حکم دیا ہے۔آپؐ سے عرض کیا گیا، لوگوں نے حضرت عمر کو کہا یہ دو نہیں بلکہ نمک اور سر کہ دونوں مل کر ایک سالن ہوتا ہے۔مگر آپ نے کہا نہیں۔یہ دو ہیں۔اگر چہ حضرت عمر کا فعل رسول کریم صلی کم کی محبت کے جذبہ کی وجہ سے غلو کا پہلو رکھتا ہو ا معلوم ہوتا ہے۔غالباًر سول کریم صلی یم کا یہ منشانہ تھا لیکن اس مثال سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ آپ نے دیکھ کر کہ مسلمانوں کو سادگی کی ضرورت ہے اس کی کس قدر تاکید کی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر والا مطالبہ میں نہیں کرتا اور یہ نہیں کہتا کہ نمک ایک سالن ہے اور سر کہ دوسر ا مگر یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ آج سے تین سال کے لیے جس کے دوران میں ایک ایک سال کے بعد دوبارہ اعلان کرتارہوں گا تا کہ اگر ان تین سالوں میں حالت خوف بدل جائے تو احکام بھی بدلے جاسکیں۔ہر احمد ی جو اس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہے یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صرف ایک سالن استعمال کرے گا۔روٹی اور سالن یا چاول اور سالن۔یہ دو چیزیں نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک ہوں گے لیکن روٹی کے ساتھ دو سالن ہوں یا چاولوں کے ساتھ دو سالنوں کی اجازت نہ ہو گی۔483 میر اس زمانے کی بات ہے جب تحریک جدید کا اعلان فرمایا تھا اور اس وقت جماعت کو ضرورت تھی تو تحریک کی کہ اپنے خرچے کم کر کے چندہ دو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب حالات مختلف ہیں۔اس لیے یہ